آر ایس ایس   UrduPoint Blogs Feeds بلاگز   Comments RSS Feeds تبصرے

اُردو پوائنٹ بلاگز پر خوش آمدید
اُردو پوائنٹ بلاگز، اب نستعلیق اُردو فونٹ کے ساتھ۔۔۔ اب اُردو پوائنٹ کے تمام سیکشن بشمول بلاگز خوبصورت اُردو فونٹ میں پیش خدمت ہیں، ہمیں اُمید ہے کہ آپ اس تبدیلی کو ضرور پسند فرمائیں گے، اور اپنی آراء سے ہمیں آگاہ رکھیں گے۔ (نستعلیق فونٹ صرف Internet Explorerاستعمال کنندگان دیکھ سکتے ہیں)
 

ہماری قوم کو اس وقت مختلف قسم کی نت نئی آزمائشوں کا سامنا ہے ایک کے بعد ایک بحران آتا چلا جا رہا ہے قیامت کی نشانیاں آج کے دور میں دیکھی جا سکتی ہیں ، دنیا چاند پر جانے کے بعد اور آگے کے جہانوں کو تلاش کر چکی ہے۔۔۔

پاکستان آجکل انتہائی مشکلات سے دوچارہے مگر یہ ثابت نہیں ہورہا کہ ان تمام مسائل کا “ذمہ دار کون ہے“ ۔کچھ لوگ کرسی بچانے کے چکروں میں پڑے ہوئے ہیں تو کچھ کرسی کے حصول کیلئے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال رہے ہیں ۔جبکہ دوسری جانب ملک میں آٹے، بجلی اورگیس کا شدید بحران ہے ، لوگ فاقہ کشی پر مجبور ہوچکے ہیں

ان دنوں پورے ملک میں الیکشن کی تیاریاں زوروں پر ہیں اور ہر ایک امیدوار اپنے اپنے حلقے کے لوگوں کو سبزباغ دکھانے میں مصروف ہے لیکن جہاں بڑی پارٹیاں الیکشن مہم کو تیزی سے چلا رہی ہیں وہیں چندچھوٹی مگر حوصلہ مند پارٹیوں نے الیکشن سے بائیکاٹ کا اعلان کررکھا ہے۔۔۔

نفسانفسی کے اس عالم میں ایسے نوجوانوں کو ڈھونڈنا بہت مشکل ہو چکا ہے جو اپنے بنائے ہوئے حصار سے باہر نکل کر اس ملک و قوم کیلئے کچھ سوچتے ہوں، خوصاََ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سب ڈر گئے ہیں، سہم گئے ہیں، سب کو گرفتاری اور پولیس کے وحشیانہ تشدد کا خوف ہے۔ اخبارات میں تصاویر دیکھ کر عجیب سا لگتا ہے کہ جانے حکومت کیا چاہتی ہے ؟

ہندو قوم کے دو غلے پن کے بارے میں ہمارے بزرگ سو فیصددرست فرما گئے ہیں کہ” بغل میں چھری منہ میں رام رام۔۔۔!“ جدید دور ہے،اصطلاحات بدل گئی ہیں۔پرانے وقتوں میں جس چیز کو”دو غلا پن“ کہا جاتاتھا۔۔۔

ہمارے یہاں ووٹ کچھ سوچ سمجھ کر نہیں دیا جاتا، نہ کسی پارٹی کے منشور کو دیکھا جاتا ہے اورنہ ہی پارٹی کے پچھلے کرتوت کو، پاکستان میں ووٹ صرف برادری، ذاتی تعلقات ، ذاتی مفادات وغیرہ کی خاطر کسی بھی گدھے گھوڑے کو ڈال دیا جاتا ہے ۔۔۔۔

ہمارا معاشرہ خواہ کتنا ہی ترقی کیوں نہ کر لے ،ہم خود کو کتناہی ا عتدال پسند اور روشن خیال کہلوانا کیوں نہ شروع کردیں لیکن یہ اٹل حقیقت ہے ہمارے ہاں کبھی بھی عورت کو وہ مقام اور بنیادی حقوق نہیں مل سکتے جو اسلام نے متعین کررکھے ہیں۔۔۔

لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان اپنی تاریخ کے بد ترین دو سے گزر رہا ہے، بجا ۔۔۔ پاکستان ہی کیا، پاکستان میں موجود ہر ادارہ اپنے تاریخ کے سیاہ ترین دن دیکھ رہا ہے۔ جس شان سے آج شاہراہ ِ دستور پر پولیس نے اپنی ”عظمت “ کا ڈرامہ رچایا ہے اس نے تمام تر دساطیر ، رواجوں اور روایتوں کے ساتھ ساتھ حکومت کی عطاکردہ ”آزادی ِ صحافت“ کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔۔۔

ا اللہ یہ کیسا وقت آگیا ہے کہ ملک کس طرف جا رہا ہے آج صحافت بھی پاکستان میں موجود ایک ڈکٹیٹر کے زیر عتاب ہے جن پر آئے دن ریاستی تشدد معمولی سے بات بنتی جا رہی ہے 2007پاکستان میں صحافیوں کے لئے کوئی اچھا ثابت نہیں ہوا صدر مشرف کے دور حکومت میں 21صحافی قتل ہوئے ۔۔۔

صدر مشرف اسوقت انتہائی مشکل اور بدترین صورتحال میں مبتلا ہیں۔ دن بدن بڑھتی ہوئی مشکلات اور مسائل نے صدر مشرف کی Frustrationبڑھا دی ہے، اقتدارکے بھوکے مشرف نے اسوقت ہر طرف سے ہاتھ پیر مارنا شروع کر دئیے ہیں، کبھی کسی سے ڈیل، تو کبھی کسی سے مذاکرات، کل کے چور آج مشرف کے چہیتے بن چکے ہیں۔۔۔۔

- آگے »


Warning: include() [function.include]: URL file-access is disabled in the server configuration in /home/blogsup/public_html/wp-content/themes/urdupoint/footer.php on line 2

Warning: include(http://www.urdupoint.com/poetry/footer.shtml) [function.include]: failed to open stream: no suitable wrapper could be found in /home/blogsup/public_html/wp-content/themes/urdupoint/footer.php on line 2

Warning: include() [function.include]: Failed opening 'http://www.urdupoint.com/poetry/footer.shtml' for inclusion (include_path='.:/usr/lib/php:/usr/local/lib/php') in /home/blogsup/public_html/wp-content/themes/urdupoint/footer.php on line 2