آر ایس ایس   UrduPoint Blogs Feeds بلاگز   Comments RSS Feeds تبصرے

بت شکن !

ذرا رکیے حضور اگر آپکا یہ خیال ہے کہ میں تاریخ کے اوراق پلٹنے لگا ہوں تو یہ بلاگ مت پڑہیے۔ مایوسی ہو گی۔ میں تو آنے والے کل کی بات کرنا چاہتا ہوں بلکہ آج ابھی اور اس وقت کی جب میں اپنے کمپیوٹر پر یہ تحریر لکھ رہا ہوں۔
یہ کہانی اسوقت شروع ہوئی جب میرا گزشتہ کمپیوٹر مکمل طور پر جواب دے گیا اور مجھے مجبوراً ایک نئے کمپیوٹر کی تلاش کرنا پڑی۔ سارا دن برلن کی خاک چھاننے کے بعد بھی انگریزی کمپیوٹر نہ ملا تو مجبوراً جرمن کلیدی تختے(کی بورڈ) اور ونڈوز وسٹا کے جرمن ورژن سے مزین کمپیوٹر اٹھائے گھر لوٹا۔ اور اس کے بعد وہی ہوا یعنی زبانِ یارِ من جرمن۔۔۔ تنگ آ کر پتا کروایا تو معلوم ہوا کہ ونڈوز وِسٹا علیحدہ سے خریدنا پڑے گی جس کی قیمت 100 سے 300 یورو ہو سکتی ہے۔ چونکہ جیب خالی ہو چکی تھی، مجبوراً اپنے نئے نویلے کمپیوٹر کی یاداشت پر جھاڑو پھیرا اور پاکستان سے لائی ہوئی ونڈوز ایکس پی کی مسروقہ (یعنی چربہ) سی ڈی کو استعمال کر کےونڈوز ایکس پی نظام نصب کر لیا۔
اس سب سے گزرتے ہوئے ایک طرف رقم کے ضائع ہونے کا افسوس تھا تو دوسری جانب ضمیر کی خلش تھی اور سب سے زیادہ تکلیف دہ تو ونڈوز نظام کی مالک کمپنی مائکروسافٹ کے ہاتھوں اپنی غلامی کا شدید احساس تھا۔۔۔۔ خوشقسمتی سے چند ہی دن پہلے کچھ آزاد مصدر آپریٹنگ سسٹمز کا علم ہوا تھا اور چند گھنٹے اس کا تجرباتی استعمال بھی کیا تھا۔ ان آزاد مصدر نظاموں میں سے بیشتر بالکل مفت ہیں اور انہی میں سے ایک بہت مشہور نظام اوبنٹو نامی بھی ہے۔ آپ کہیں گے یہ بھلا کیسا نام ہوا؟ دراصل اوبنٹو ایک افریقی زبان کا لفظ ہے جس کا ترجمہ شائد مکمل تو ممکن نہ ہو لیکن اردو میں آپ اسے ’جانبِ انسانیت‘ کہہ لیں۔ اور افریقی نام ہی کیوں؟ تو جناب وہ اس لیے کہ اوبنٹو کی جنم بھومی افریقہ ہی ہے۔ یہ ان بیشتر حیرانگیوں میں سے ایک تھی جنکا سامنا مجھے اس نظام کو استعمال کر کے ہوا۔ افریقہ کہ جس کا نام سنتے ہی لق و دق صحرا اور بھوک و افلاس کا شکار انسان ذہن میں آتے ہیں۔۔۔
بس جناب چند (ہزار) گھنٹوں کی محنت کے بعد میں اسے استعمال کرنے کے قابل ہو گیا ہوں اور گوروں (اور کالوں کو بھی) دعائیں دے رہا ہوں کہ جنہوں نے مل کر ایک ایسے شخص کو چاروں شانے چت کر دیا ہے کہ جسکی دولت کا تخمینہ 56 ارب ڈالر سے کچھ زیادہ ہی کا ہے اور جو اس دنیا کے تیس بتیس غریب ممالک کی مشترکہ دولت سے بھی زیادہ پیسے والا ہے۔ اب آپ ہی بتائیےکہ اس نظام کو بت شکن نہ کہوں تو کیا کہوں؟
آزادی کسے کہتے ہیں؟ اس کا مفہوم صحیح معنوں میں وہی بتا سکتا ہے جو ایک عرصہ غلام رہا ہو۔ کچھ ایسا ہی میرے ساتھ بھی ہوا۔ مالی فائدہ تو خیر معمولی بات ہے، اصل آزادی تو اوبنٹو استعمال کرنے کے بعد محسوس ہوتی ہے۔ ایک عام سے کمپیوٹر سے اتنے کام لیے جا سکتے ہیں، یہ علم آپکو اسکے استعمال کے بعد ہی ہو گا۔ اور ان سب باتوں سے بالاتر وہ فلسفہ ء انسانیت ہے جو اس نظام کو ترتیب دینے والے لوگوں کا ہے۔ یہ چند سر پھرے نہیں بلکہ دنیا بھر میں بلا شبہ لاکھوں کی تعداد میں پھیلےلینکس پروگرامرز ہیں جن میں زیادہ تر شوقیہ ہیں۔ ایک نصب العین نے ان سب کو رنگ، نسل، زبان کی قید سے آزاد کر دیا ہے اور یہ نصب العین متعین کرنے والے کا نام ہے لائینس توروالڈ۔
ہونہار بروا کے چکنے چکنے پات۔ لائینس صاحب نے 1990 کے اوائل میں اپنے زمانہ ء طالبعلمی میں لینکس نامی نظام کی بنیاد ڈالی۔ یہ کارنامہ شائد یونہی زمانے کی گرد میں گم ہو جاتا اگر لائینس نے اس کے استعمال کے حقوق استعمال کنندگان کو بخش نہ دیے ہوتے۔ بعد میں لینکس کی بنیاد پر کئی نظام کھڑے ہوئے جن میں سے ریڈہیٹ لینکس، فیڈورا، سوسی وغیرہ نسبتاً زیادہ معروف ہیں گرچہ عام گھریلو صارفین ان سب سے بوجوہ دور ہی رہے۔ لیکن پھر ایک مردِ ِ مجاہد اور پیدا ہوا جسکا نام ہے مارک شٹل ورتھ۔ ان جنوب افریقی صاحب نے آزاد مصدر نظاموں کو گھریلو صارفین تک پہنچانے کا بیڑہ اٹھایا اور یوں اوبنٹو پیدا ہوئی۔ مارک شٹل ورتھ کے وعدے کے مطابق غالباً 2004 سے اب تک اوبنٹو کو ہر چھ ماہ بعد تازہ دم کر دیا جاتا ہے تا کہ یہ تیزی سے بدلتے عصری تقاضوں کا سامنا کر سکے۔ اوبنٹو کے بھی کچھ بھائی بہن موجود ہیں مثلاً کوبنٹو (جو ظاہری ہیت میں نسبتاً ونڈوز کے قریب ہے)، ژوبنٹو (جو پرانے کمپیوٹروں پر کہ جن پر ونڈوز گھسٹ گھسٹ کر چلے، دوڑتی ہے اور یوں آپکا پرانا کمپیوٹر جوان ہو جاتا ہے)، اور ایڈوبنٹو (جو بالخصوص بچوں، سکولوں اور تعلیمی مقاصد کیلئے بنایا گیا ہے) شامل ہیں۔
اب آتے ہیں اسکے استعمال کی طرف۔ تو جناب کونسا ایسا کام ہے جو آپ اسمیں نہ کر سکیں؟ چاہے کوئی تحریر لکھنی ہو یا رکھنا ہو مالی کھاتوں کا حساب، برقی مراسلہ (یعنی ای میل) لکھنا ہو یا کرنا ہو انٹرنیٹ کی سیر، موسیقی سننی ہو یا مشغلہ ہو فلم بینی، یہ سب کام آپ اوبنٹو میں کر سکتے ہیں ایک پیسہ خرچ کیے بغیر۔ اور ان میں سے ہر کام کے لئے ہزاروں کی تعداد میں سافٹویر موجود ہیں جو آپ انٹرنیٹ کے ذریعے چند لمحوں میں حاصل کر سکتے ہیں۔ اسکے علاوہ یہ نظام انتہائی محفوظ بھی ہے اور آپ کو نت نئے وائرس اور دیگر بیماریوں سے ڈرنے کی ضرورت نہیں۔ اور ہاں چند مخصوص انتظامات کے ذریعے آپ ونڈوز میں چلنے والے پروگرام بھی اوبنٹو میں چلا سکتے ہیں، بلکہ دل کرے تو پورا ونڈوز کا نظام ہی چلا لیں۔ میں نے خود ونڈوز کا انٹرنیٹ ایکسپلورر اوبنٹو میں چلا کر دیکھا ہے۔
اب ناچیز کا ذکر آ ہی گیا ہے تو بتاتا چلوں کہ میں نے کمپیوٹر اور ونڈوز نظام کا باقاعدہ استعمال 90 کی دہائی کے آخری برسوں میں کیا تھا اور ابنٹو پر منتقل ہوتے وقت گھبراہٹ فطری تھی۔ اگر آپ بھی میری طرح ڈرپوک ہیں (یا عقلمند کہہ لیں کہ آجکل دونوں لفظ بطور متبادل استعمال ہوتے ہیں) تو اپنے کمپیوٹر میں موجود کرخت تھالی (اب اس کمبخت ہارڈ ڈسک کو کیا نام دوں؟) کے دو حصے کیجیئے، ایک حصے میں اوبنٹو نصب کیجیے اور دوسرے میں ونڈوز رہنے دیجیے اور طبیعت اور ضرورت کے مطابق ہر مرتبہ کمپیوٹر چلاتے وقت کسی ایک کا انتخاب کر لیجیے۔ ویسے میرا وعدہ ہے کہ جلد ہی آپ ونڈوز سے اکتا جائیں گے۔
اے لو چند انتہائی ضروری باتیں تو بتانا ہی بھول گیا۔ اوبنٹو ملے گی کہاں؟ تو صاحب اگر آپ تیزرفتار انٹرنیٹ کے مالک ہیں تو اوبنٹو کی ویبسائٹ پر جائیے اور تقریباً 700 میگابائٹ کی فائل ڈائنلوڈ کر لیجیے۔ بہتر ہو گا کہ اس فائل کو سی ڈی پر لکھ لیجیے اور یہیں سے تنصیب کیجیے۔ دوسرا طریقہ بھی بتاتا ہوں۔ ویبسائٹ پر ہی آڈر لکھوائیے اور گھر بیٹھے سی ڈی حاصل کیجیے، ہاں ہاں بھئی مفت۔ ویسے جلد ہی آپ تنصیب کے جھنجھٹ سے بھی آزاد ہو جائیں گے کہ صارفین کے اصرار پر مشہورِ زمانہ کمپیوٹر ساز ادارے مثلاً ڈیل اپنے کمپیوٹرز میں پہلے سے ہی اوبنٹو کی تنصیب کرنے کا سوچ رہے ہیں۔ فرانسیسی پارلیمان نے تو اگلے ماہ سے اوبنٹو کے باقاعدہ استعمال کا فیصلہ بھی کر لیا ہے۔
اے لائنس صاحب، مارک بھیا اور دیگر لائنکسرز: مجھے لینکس تو کیا کسی بھی کمپیوٹر زبان کی الف ب بھی نہیں آتی سو اس معاملے میں تو میں تمھاری کوئی مدد نہیں کر سکتا، ہاں جو مجھ پر بیتی وہ اپنے بلاگ کے قارئین تک من و عن پہنچا دی کہ شائد کچھ حق ادا ہو جائے۔ دوستو، تم گواہ رہنا! کیا اس نظام کے استعمال کے بعد بھی مجھے خود یہ کہنا پڑے گا کہ آپ مجھے یا دوسرے پاکستانی بلاگرز جو اوبنٹو استعمال کرتے ہیں، کو بلا تکلف لکھ کر مدد لے سکتے ہیں؟

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars :درجہ بندی کیجئے
Loading ... Loading ...
احباب کو بذریعہ ای میل بھیجئے | پرنٹ کیجئے |

14 تبصرے برائے

”بت شکن !“
  1. تاریخ اشاعت: مئی 22, 2007 راقم Muhammad imran SAUDI ARABIA

    AOA,
    sir jee ap ne buhat achi information pass ke ha buhat khushi hoi read ker ke, shukar ha kisi ne tu politics se nikal ker eduction per tavajo de, thanks again, per ab mesla yahe ha ke ap ne site ka address tu betaya he nahi jeha se yahe etna acha operting system hum down laod ker sakte han , so plz reply as soon as with name of website.
    takecare bye bye

  2. تاریخ اشاعت: مئی 22, 2007 راقم میاں محمد ندیم PAKISTAN

    :رادرم شاہ فیصل صاحب اسلام علیکم،آپ نے بلاشبہ صحیح نشاندہی کی ہے کہ ایک مخصوص کمپنی کو پوری دنیا میں اجارہ داری قائم کرنے کی کھلی آزادی دی گئی جس نے نہ صرف پوری دنیا بلکہ اپنے ہم وطنوں کو بھی معاف نہیں کیا،میں کافی دنوں سے اس موضوع پر لکھنے کا سوچ رہا تھا مگر میں اپنی کاہلی کی وجہ سے رہ گیا اور آپ بازی لے گئے کچھ عرصہ بیشتر مجھے ایک غیرملکی کمپنی کی لاہور میں منعقدہ تریبیتی ورکشاپ میں شرکت کا اتفاق ہواجہاں پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک میں ونڈز اور دیگر پروگراموں کی چربہ سازی کو نشانہ بنایا گیا تو میں چندگذارشات پیش کیں کہ کیااہل مغرب مسلمانوں کو ان کی علمی خدمات،ایجادات،تخلیقات( جن کی بنیاد پر مغرب ترقی کی )کاحق تصنیف،حق ایجاد اور حق تخقیق کامعاوضہ اسی طرح اداکرنے پرتیار ہے جس طرح مغربی کمپنیاں پوری دنیاسے وصول کرتی ہیں؟یقینا ایسا نہیں ہے مغرب یقینی طور پر اس کے لیے تیار نہیں مگر وہ اپنی تجوریاں بھرنے کے لیے اپنے ہی ہم وطنوں،ہم نسلوں،ہم مذہبوں سمیت پوری دنیا کا خون چوسنے میں مصروف ہے انسانی حقوق ،مساوات اور انصاف کی دہائی دینے والے مغرب کا یہ چہرہ جتنا بھیانک ہے اس کی شاید تاریخ انسانی میں مثال نہیں ہوگی

  3. تاریخ اشاعت: مئی 22, 2007 راقم MUGHAL SINGAPORE

    SALAM JANAB SHAH FAISAL bhai
    yar app ka naam b tu kher se aisey fard k naam se mael khata hai jo muslim dunya main aik mutbar naam tha aur uss k karnamey b tu kher se buhat e ziyada hain,
    jesey k saudi arab main naye roads wagera aur buhat se degar kaam b,
    issi tarah app ne b ajj aik buhat he acha kaam kia hai jo app itni dooor beth k wahi ki nai ejaad k barye main bataya tu yey b kam as kam merey khayal main buhat he bara kaam hai app ka warna ham jesey log jo computer ka koi khaas istamal nahi jantey iss barey main kia jaan saktey hain,
    FAISAL bhai aik kaam agar hu sakey tu wo yeh hai k app iss ki web site k darust speling likh k de dain tu janab ki buhat ziyada meharbani hu gi,
    ALLAH PAK app ko khush rakhey,

  4. تاریخ اشاعت: مئی 22, 2007 راقم شاہ فیصل GERMANY

    دوستو،
    ونڈوز کا برانڈ لوگو دیکھا تو خیال آیا کہ اوبنٹو کی تصاویر دکھانا تو میں بھول ہی گیا، لیکن خیر یہ آپ اسکی ویبسائٹ پر بھی دیکھ سکتے ہیں۔ بھورا رنگ نمایاں نظر آئے گا جو کہ زمین کا رنگ ہے اور افریقہ کی عکاسی کرتا ہے۔
    ایک مزے کی بات یہ کہ آپ اوبنٹو کی سی ڈی سے تجرباتی طور پر مکمل نظام چلا سکتے ہیں اپنے کمپوٹر میں موجود کسی بھی چیز کو چھیڑے بغیر۔ یوں آپکو اندازہ ہو جاتا ہے کہ اوبنٹو استعمال کرنا چاہیے یا نہیں۔ آزما کر دیکھ لیجیے۔

  5. تاریخ اشاعت: مئی 22, 2007 راقم Imran MALAYSIA

    Will highly appreciate if you can provide the web site address, because the OS name which you u wrote in urdu, I can exactly get it ..
    Obinto?
    Obinito?
    Or what ??
    If you are giving the ref. of any website, then it will great if you can provide the url etc.
    Thanks

  6. تاریخ اشاعت: مئی 23, 2007 راقم قاسم UNITED KINGDOM

    Its UBUNTU. A good OS but still, Window Rules. I dont think a normal user will ever consider switching to UBUNTU. So stay stick with Windows, atleast thats what you know the best, unless you want to dig deep and compile your own OS.

  7. تاریخ اشاعت: مئی 23, 2007 راقم شاہ فیصل GERMANY

    Dear Friends,
    Thanks for encouragement. I had tried to add some links but could not do so somehow. But you can see the same post on my blog space, with all necessary links, at:
    www.shahfaisal.com
    Meanwhile, you can visit their official site at:
    http://www.ubuntu.com/
    For requesting Free CDs (100% free home delivery, even in Pakistan):
    http://www.ubuntu.com/getubuntu/

    Nadeem Bhai,
    You are right, the developed world is more ugly than we can imagine, the only thing is that they put on nice faces. They are still stealing our intellect in the form of Intellectual Property Rights at WTO. The list of accusations is long but change is inevitable insha Allah.

  8. تاریخ اشاعت: مئی 23, 2007 راقم شاہ فیصل GERMANY

    Ahhh sorry again,
    Its http://shahfaisal.wordpress.com/
    I am not yet rich enough to have my own website :-)
    You may try a dual boot computer, just search google on how to make a computer a dual boot machine.
    I will be happy to respond to individual queries as well, in case if I know a solution.
    Wassalam,

  9. تاریخ اشاعت: مئی 23, 2007 راقم بت شکن « Faisaliat- فیصلیات

    […] (یہ بلاگ پوسٹ آپ اردو پوائنٹ کی ویبسائٹ پر بھی دیکھ سکتے ہیں جہاں قارئین کی مزید آراء موجود ہیں)   […]

  10. تاریخ اشاعت: مئی 23, 2007 راقم راحت حسین TURKEY

    السلام علیکم شاہ فیصل بھائی۔
    ماشااللہ، بہت ہی اچھا اور معلوماتی بلاگ لکھا ہے۔ ڈاون لوڈ بھی شروع کر دی ہے، یہ بات درست ہے کہ ونڈوز چونکہ بہت زیادہ استعمال ہو رہی ہے پاکستان میں اور ایک عام استعمال کنندہ کے لئے ونڈوز سے اوبنٹو میں سوئچ کرنا مشکل ہے لیکن اگر ہم ونڈوز سافٹ وئر کی قیمت دیکھیں تو یہ سرا سر فائدے کا سودا ہے۔ میں‌خود چوری شدہ آپریٹنگ سسٹم استعمال کر رہا ہوں اور اس بات کی مجھے شدید ذہنی کوفت ہے، یہ الگ بحث ہے کہ وہ اپنی محنت کی کچھ زیادہ ہی قیمت وصول کرتے ہیں لیکن چوری بہرحال چوری ہی ہے۔ اور جہاں تک اس نیک کام (بلاشبہ یہ ایک نیک کام ہے) میں حصہ ڈالنے کی بات ہے، تو مسلم دنیا میں بہت ٹیلنٹ ہے، پاکستان میں انٹرنیشنل میعار کے پروگرامرز موجود ہیں، اور میری اس پہلٹ فارم کے توسط سے ان سب سے درخواست ہے کہ اس میں ‌ضرور حصہ ڈالیں، قدمے سخنے خدمت تو ہو ہی چکی ہے اور مزید بھی ہوگی، ٹیکنیکل خدمت میں کم از کم میرا تو بہت فائدہ ہو گا، کیونکہ ویسے بھی میں آپریٹنگ سسٹم ڈویلپمنت پہ کام کر رہا ہوں اور اپنا ایک مکمل آپریٹنگ سسٹم ڈویلپ کرنا ایک عرصے سے میراخواب رہا ہے، اس پر پیش رفت بھی ہو رہی ہے لیکن وہ کیا ہے نا کہ ’’تجھ سے بھی دلفریب ہیں غم روز گار کے‘‘ تو یہی صورتحال درپیش ہے۔
    ‌اللہ آپ کو اس کا اجر دے، زور قلم زیادہ فرمائے (آمین)

  11. تاریخ اشاعت: مئی 23, 2007 راقم imran UNITED STATES

    i have downloaded this nice and free produect.kick microaoft very well.

  12. تاریخ اشاعت: مئی 24, 2007 راقم خلیق ناصر PAKISTAN

    اسلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ
    محترم آپ نے بہت ہی اچھی معلومات فراہم کی ہیں ۔ یہ یقینآ بت شکن پروگرام ہی ہے ہوسکتاہے کہ آگے چل کرجب ونڈوز پاکستان میں بھی حقوق کی بنیاد پرفروخت ہو تو ایسے سافٹ وئیرز کی ضرورت ہوگی جو کہ بلا قیمت ہوں‌گے۔
    جزاکم اللہ

  13. تاریخ اشاعت: مئی 28, 2007 راقم Yasir Imran SAUDI ARABIA

    Aslam O Alaikum

    Bohat shukria sir. It was a very nice informative blog. I will try this new operating system.

    Keep writing such articles.

    Thanks

  14. تاریخ اشاعت: جون 27, 2007 راقم حمزہ خان PAKISTAN

    اسلام
    اس بات کا شکریہ

بلاگ کا مستقل لنک | بلاگ کے تبصروں کی آر ایس ایس فیڈز

تبصرہ / پیغام شامل کیجئے۔


كی بورڈ منتخب كریں:

Urdu
English



تصویری الفاظ من و عن تحریر كریں


Warning: include() [function.include]: URL file-access is disabled in the server configuration in /home/blogsup/public_html/wp-content/themes/urdupoint/footer.php on line 2

Warning: include(http://www.urdupoint.com/poetry/footer.shtml) [function.include]: failed to open stream: no suitable wrapper could be found in /home/blogsup/public_html/wp-content/themes/urdupoint/footer.php on line 2

Warning: include() [function.include]: Failed opening 'http://www.urdupoint.com/poetry/footer.shtml' for inclusion (include_path='.:/usr/lib/php:/usr/local/lib/php') in /home/blogsup/public_html/wp-content/themes/urdupoint/footer.php on line 2