صحافت کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے ۔۔۔
![]()
راقم مدیحہ انور -- اكتوبر 01, 2007
لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان اپنی تاریخ کے بد ترین دو سے گزر رہا ہے، بجا ۔۔۔ پاکستان ہی کیا، پاکستان میں موجود ہر ادارہ اپنے تاریخ کے سیاہ ترین دن دیکھ رہا ہے۔ جس شان سے آج شاہراہ ِ دستور پر پولیس نے اپنی ”عظمت “ کا ڈرامہ رچایا ہے اس نے تمام تر دساطیر ، رواجوں اور روایتوں کے ساتھ ساتھ حکومت کی عطاکردہ ”آزادی ِ صحافت“ کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔ وہ جو بات کرتے ہیں میڈیا کی آزادی کی ، وہ جو بات کرتے ہیں صحافیوں کے قلم کی کاٹ کی۔۔۔ آج
آزادی ِ صحافت کے جنازے کو کندھا دے لیں کہ تمام دنیا نے دیکھا کہ” آزادی “کا منبع کون ہے ؟ کہاں صحافیوں کے قلم کی نوک اور کہاں پاکستانی پولیس کے ڈنڈے جو اچھے اچھوں کے مزاج درست کر دیتے ہیں۔۔۔ ہاتھ میں قلم تھامے ، گلے میں کیمرہ لٹکائے ، شاہراہ ِ دستور پر مظاہرہ کرنے والے نہ تو کوئی دہشت گرد تھے نہ ہی کوئی اشتہاری ملزم ، مگر ان پر کیے جانے والے تشدد سے کچھ ایسا ہی گمان ہو رہا تھا۔۔۔ سچائی کو کیمرے کی آنکھ میں مقید کرنے والے اور حقیقت کو عوام تک پہنچانا انکا فرض ہے جسکی خاطر وہ جلتی دھوپ میں بھی گھنٹوں انتظار کرتے ہیں ۔۔۔
الیکشن کمیشن کی بلڈنگ میں داخل ہونا گویا پل صراط کو پار کرنے سے زیادہ دشوار ٹھہرادیا گیا ۔۔۔ جہاں سوائے ”حکومتی ٹی وی“ کے کسی اور کی رسائی ممکن نہیں تھی۔ جن نجی ٹی وی چینلز نے بلڈنگ کے باہر کیمرے لگانے کی ”گستاخی“ کی تھی ان کے کیمروں کی تاریں کاٹ کے اور کیبل پر ان کے چینلز بند کرکے انہیں اس حرکت کا مزہ اچھی طرح چکھایا گیا۔۔۔ یہ ڈرامہ گذشتہ تین روز سے بپا ہے۔ راولپنڈی اسلام آباد میں گویا کرفیو لگا دیا جاتا ہے۔ ۲۷ تاریخ کو اسلام آباد کو پنڈی سے ملانے والے تمام راستوں کی ناکہ بندی یوں کی گئی تھی کہ چڑیا کا بچہ بھی پر نہیں مار سکتا تھا۔ تمام بڑی شاہراہوں پر ٹرالے اور کنٹینرز سجا کر آنے جانے کا راستہ بند کرنے کا اہتمام ایسے کیا گیا تھا جیسے صدر کے کاغذات ِ نامزدگی نہ ہوئے ملک خدانخواستہ حالت ِ جنگ میں ہو ۔۔۔ دیکھا جائے تو سچ بھی یہی ہے۔ ہم حالت ِ جنگ میں ہی ہیں ۔۔۔ مگر کس کس محاذ پر لڑیں ؟ کس کس سے لڑیں ؟ کس سے فریاد کریں ؟ کس کے سامنے شنوائی کے لیے آواز بلند کریں۔۔۔ کہ داد رسی کرنے والوں کے لیے اس وقت صدر صاحب کو دوبارہ صدر منتخب کرانے سے اعلیٰ و ارفع کام کوئی ہو نہیں سکتا۔۔۔ انکی سماعتیں اور انکی بصارتیں صدارتی ایوان کے ارد گرد گھومتی ہیں۔ انہیں ملک میں آٹے کا بحران نظر نہیں آتا، انہیں عوام کے سروں پر مہنگائی کی لٹکتی تلوار نہیں دکھائی دیتی، انہیں پاکستان کے ریکارڈ قرضے دکھائی نہیں دیتے، انہیں آمریت کے سائے میں پلتی جمہوریت کی آخری ہچکیاں سسکیاں دکھائی نہیں دیتیں، انہیں جمہوری اداروں کا پامال ہوتا تقدس نظر نہیں آتا ، انہیں وکلا ء اور صحافیوں پر کیا جانے والا تشدد دکھائی نہیں دیتا۔۔۔ انکی زندگی اور تمام تر توانائیاں اس وقت صرف مشرف کو کرسی ِ صدارت پر بٹھانے کی تگ و دو میں جٹی ہے۔۔۔
بات کہاں سے شروع ہوتی ہے اور کہاں نکل جاتی ہے۔۔۔ اس میں قصور میرا نہیں، بیس روپے کلو آٹا، شاہراہ ِ دستور پر وکیلوں اور صحافیوں کی پٹائی ، روتی بلکتی جمہوریت اور اس پر صدر صاحب کی دوبارہ صدر منتخب ہونے کی رٹ نے مجھے ہی کیا کسی بھی دردمند پاکستانی کو کچھ سوچنے لائق چھوڑا نہیں ہے۔۔۔ اپنے ساتھیوں کو اس انداز میں پٹتے دیکھ کر مجھے حکومت کے ”آزادی ِ صحافت “ کے نعرے پر یقین سا آ گیا ہے، انہیں سیلوٹ کرنے کا جی چاہتا ہے۔۔۔
کہا جاتا ہے کہ ہمارا معاشرہ دوسرے بہت سے معاشروں کی نسبت آج بھی مہذب ہے کہ ہمارے ہاں خواتین کا احترام کیا جاتا ہے۔۔۔ خواتین کا احترام اس سے بڑھ کر اور کیا ہوگا کہ ایک نجی ٹی وی کی خاتون رپورٹر کو بالوں سے گھسیٹکر تھانے لے جایا گیا ۔۔۔ اس نے ہماری تہذیب کی عکاسی بڑی عمدہ طریقے سے کی۔۔۔ ایک اور خاتون رپورٹر کا سکارف ان کے بالوں سے اتار کر جس انداز میں ہم نے خواتین کی ”عزت افزائی“ کی ہے اس پر پولیس اور حکومت لائق ِ تحسین ہے۔
وکلاء اور صحافیوں کے مظاہرے کرنے پر جس طرح آج وکلاء اور صحافیوں کی گوش مالی کی گئی ہییہ بہت دیر تک یاد رکھی جائے گی۔ علی احمد کرد اور اعتزاز احسن پر پڑنے والے ڈنڈے ، اس عظیم مشن کے لیے خاص طور پر مروت شاہ کو بلایا جانا اور پولیس کو فری ہینڈ دینا ایک لمحہ ِ فکریہ ہے جس کا سرا صدر صاحب کے دوبارہ مسند ِ صدارت تک بیٹھنے اور شاید اس کے بہت بعد تک بھی نہ سلجھایا جا سکے کہ اب وکلاء اور صحافیوں کا یہ مشن تھمنے والا نہیں۔ اور حکومت بلکہ ایک شخصی حکومت یعنی مشرف صاحب اپنے آگے کسی کی کچھ سننے کی تاب نہیں رکھتے اور ان آوازوں کو کچلنے کے لیے بے دریغ طاقت کے استعمال سے بھی گریز نہیں فرماتے۔ لال مسجد ہو، آٹے یا چینی کا جان بوجھ کر پیدا کردہ بحران ہو، نواز شریف کی جلا وطنی ہو، صحافیوں اور وکیلوں کی پٹائی ہو، بس کہیں پر بھی مشرف صاحب ، انکی وردی اور انکے عظیم مفادات پر ضرب نہیں پڑنی چاہیے وہ قابل ِ معافی جرم نہیں ۔۔۔ موجودہ حالات دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ گذشتہ آٹھ سال مشرف نے ”سب سے پہلے پاکستان“ کا نعرہ لگا کر گزارے ہیں اور آئندہ ” سب سے پہلے مشرف“ کا نعرہ ِ مستانہ بلند کیا جائے گا ۔۔۔
ایک دفعہ کہیں پڑھا تھا ۔۔۔ ڈوبتے ہوئے سورج نے جاتے جاتے رات کی سیاہی سے پوچھا ” میرے بعد اجالا کون کرے گا ؟“ مٹی کا ایک ننھا سا دیا بولا، ” میں مقدور بھر کوشش کروں گا“ ۔۔۔ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے صحافیوں اور وکلاء کی یہ جدوجہد مٹی کے اس ننھے سے دئیے کے عزم سے مشابہ ہے ۔۔۔ اور شاید گھٹا ٹوپ اندھیرے میں امید اور روشنی کی ایک کرن بھی جو شاید ہمیں مشرف اور اس کے چیلوں سے چھٹکارا دلا سکے۔۔۔ ورنہ اگر صحافیوں پر لاٹھیاں برسانے ، ان پر آنسو گیس پھینکنے اور انکے سر پھاڑنے سے صحافت کا گلا گھونٹا جا سکتا تو آئندہ اس ملک میں کوئی صحافی سچ لکھنے کی ہمت نہیں کرے گا۔۔۔
23 تبصرے برائے
”صحافت کا جنازہ ہے ذرا دھوم سے نکلے ۔۔۔“تبصرہ / پیغام شامل کیجئے۔
| كی بورڈ منتخب كریں: |
بلاگز
:درجہ بندی کیجئے
حقوق نسواں کے دعویدار اس مشرف نامی صاحب کی اصلیحت اوپر شائع شدہ تصاویر سے واضح ہے، اس بیچاری کا قصور کیا ہے ؟ کیا یہ القاعدہ کی رکن ہے ؟ خودکش حملہ آور ہے یا پھر اسنے مشرف کے مقابلے میں صدارتی کاغذات داخل کروائے ہیں؟
ہم سب صحافیوں کو اعلان جہاد کرنا ہے، خودکش حملوں والا جہاد نہیں، بلکہ مشرف راج کیخلاف اٹھ کھڑے ہونا ہے، اپنی صحافی برادری کو متحرک کیجئے، پاکستان میں ہونے والی اس صدارتی غنڈہ گردی کا اصل چہرہ آپ لوگوں نے ہی عوام کو دکھانا ہے، شائید اسی سے کوئی انقلاب آجائے۔
slam
i’m proud of you. i just wanna say keep it up because that’s is now our duty
a duty of life……………………..
ع علی بھائی آپ کو نہیں پتہ یہ لڑکی کوئی صحافی وافی نہیں ہے، بلکہ یہ تو لڑکی بھی نہیں ہے۔ یہ تو اسامہ ہے اسامہ۔ آپ کو نہیں پتہ اسامہ بہت چالاک ہو گیا ہے وہ ناں لڑکی کے روپ میں دہشتگردی کرنے آیا تھا۔ وہ تو ہماری ذہین پولیس نے فوری پہچان لیا ورنہ کوئی قومی نقصان بھی ہو سکتا تھا۔ شاباش پولیس، یہی فرض شناسی ہے۔
۔ حیراں ہوں دل کو رووں کہ پیٹوں جگر کو میں !!!
well zulam ki entha hai dekh kar buht rang huwa kia yaih wohi pakistan hai jisay Mohammed Ali Jinah nai banaya tha.log kehtay hai emergency nahin lagi magar jahan tak mera khiyal hai to i think kay yahi to hota hai emergency main iss sary waqyee main sahafi or woqlya bradri par jo tashdud huwa buht bura huwa magar eik bat ki samjh nahin ati kay awam baher keu nahin niklti awam bechari to lal masjid kay waqyee kay bad yah to dari huwi hai jo khana jangi mushraf sahib nai lal masjid kay mahaz par ki. wesay bhi awam bechari atay cheeni khany peenay ko tras rahi hai. magar main samjhta hun kay ab awam ko baher ana chahiye apna haq mangnay kay liyah.mushraf sahib chorain ab gusa jany dain kuch sakoon ka sanss anay dain pakistan ko.
reeally it was astonishing for me when i plugged the tv..
what i see was the lawyers and gorunalist were wounded
eventually my attentions moves to my brother(behnoe)
who is also journalist…i found that he is there…and i know…the whole day….how restless i was….
i was wishing to just fly over to pindi and give my powers to my frnds there….
is it not enough….what we are waiting for….
we all are deaf and dumb…
it is stated in quran and hadis:
that the rulers would be the peoples among you…they would be like you…and they will be great azab on you…
so here we are…..
Dear Ali ,
I appreciate your effort exposing a dictators govt, please keep it up.
Thanku,
Ali Bhai:
” Assalam-o-Alaikum “
What kind of government is this? Are we living in the 21st century or “Cave” era? I am deeply astonished and anguished at the way our so-called security agencies have treated hapless but thoroughly prfessional journalists, reporters, photographers and brave media staff including dedicated lawyers, concerned citizens and liberty loving people of the land of the pure. They say spilling blood is priceless and sooner of later, takes it toll. Let’s wait and see if the precious blood brutually spilled by the “Faithful” security agencies in Islamabad shall take its toll or not?
Alongwith millions of freedom loving people all over the world, I am waiting for that day anxiously and desperately.
Allah Haafiz O Naasir
Sincerely,
Aamir A. Salaria
8326 Delcrest Drive
St. Louis, Missouri 63124
U.S.A.
Humari Awam behis ho kar tamasha dekh rahi hai ager humari awam hi thek ho jaye na toh main Vada karta hon pakistan ke haal per koi bhi nahin roye ga . Lanat hai aisay hukumranon per jo lashon ki siyasat kar rahay hain huhhhhhhhhhhh
آ گئ فصل سکوں چاک گریباں والوں
سل گئے ھونٹ کوی زخم سلے نہ سلے
Asalam U Alaikum
I would like to say that People of Pakistan is with Musharraf. That is why they are watching the whole scenario and also note the black mailing of so called lawyers (Law breakers ) and so called journalist (Yellow Journalist).
I must say GEO MUSHARRAF
PAKISTAN ZINDABAD
salamz
i just wanna say that gen parvez musharaf (in my opinion) doesnt care about pakistani ppl or their problems he only cares about power,his place and money as it says in surat-at-takathur “you have your eyes closed in the greed for more and more and surely you will know this when u visit your graves”
well thanks for the article
well written, keep it up
mubashar anwaar
Hello Salam
Ms. Madiha i have always been a silent admirer of your writings. To me you just have learn the art of Journalism perfectly.
For the above coulmn and pictures all i have for you is
Faiz
Jo Rukey Toh Kooh e Garaan They Hum
Jo Chaley toh Jan Se Guzar Gaye,
Aye Rah e Yaar Hum Ne Tujhey
Qadam Qadam Yaadgar Bana Diya….
Yeh jung toh sadiyon se jari hia aur sadiyon tak jari bhi rahey gi, sach ki awaz ko dabana hamesha se hi Dastoor e zamana raha hai. Bus Aap jese log hein ke jinn ke wajah se iss Paishey ka Maqam ooncha hia civil society main.
All the very best and keep up the good work.
Vishal
جس طرح چراغ سحری بجھنے سے پہلےآخری مرتبہ زور سے پھڑپھڑاتا ہے اسی طرح بشرف صاحب کا چراغ بھی گل ہونے سے پہلے پھڑ پھڑا رہا ہے۔ وقت اختتام قریب ہے
م مدیحہ جی ، بہت خوب آپ نے حکومت پر جس بھرپور انداز میںطنز کیا ہے ،،،، بہت مزا آیا پڑھ کر ۔ ایک صحافی ہی اپنی برادری کی بھرپور انداز میںترجمانی کر سکتا ہے اور وہی اس کے اصل مقام کو سمجھ سکتا ہے ۔ موجودہ حکومت کا رویہ نہ وکلا، بلکہ صحافی برادری کے ساتھ بہت جارحانہ ہوتا جا رہا ہے ۔۔ اور اس کے لیے آواز بلند کرنے کی ضرورت ہے ۔ آپ کا آرٹیکل حکومت کے منہ پر بھرپور طمانچہ ہے ۔
آج کل میں ایک ملک کا صدر ہوں بہت خوشی کی بات ہے میں اس ملک کا صدر بن گیا ہوں لیکن نہت سے لوگ مجھ سے جلتے ہیں پتہ نہیں کیا بات ہےکیوں جلتے ہیں وہ جانتے بھی ہیں کے میں اندھا ہوں- پھر بھی جلتےہیں جناب دیکھا نہ سب لوگ کہتے ہیں ملک میں مہنگائی ہے آپ خود ہی بتاوں میں اندھا ہوں تو مجھے کیسے نظر آئے گی مہنگائی اور اگر مہنگائی نظر آئے گی تو میں پھر ہی اس کو دور کر سکوں گا لوگ کہتے ہیں انصاف نہیں ہے مجھے تو کبھی بھی نا انصافی نظر نہیں آئی لوگ کہتے ہیں قتل و غارت ہو رہی ہے بے گناہ لوگ مارئے جا رہیے ہیں صحافیوں کو زخمی کیا جا رہا ہے ان کو سب کے سامنے مارا جا رہا ہے اور کوئی بھی پوچھنے والا نہیں ہے ان کو انصاف دینے والا کوئی نہیں ہے تو آپ ہی بتاوں یہ سب کچھ ہو رہا ہے اگر ہو بھی رہا ہے تو میں کیا کروں مجھے تو کچھ نظر نہیں آ رہا میں تو اندھا ہوں-آپ میں سے اگر کسی کو نظر آ رہا ہے تو آپ اس کو انصاف دلادو مجھے تو کچھ نظر ہی نہیں آ رہا میں تو اندھا ہوں- لیکن مجھے کرسی نظر آتی ہے اور بہت اچھی طرح نظر آتی ہے اس لیے کہ میں صدر ہوں اور ہاں ایک بات اور میں اکیلا ہی اندھا نہیں ہوں میرے ساتھ آپ لوگ بھی اندھے ہوں کیونکہ جب میں نےسابق وزیراعظم کے خلاف ایکشن لیا تو سب نے کہا میں نے ٹھیک کیا ہے جب میں نے اختساب کا ڈرامہ کیا تو سب نے کہا میں نے ٹھیک کیا ہے اور جب مجھے اس کرسی پر بیٹھ کر کام کرنے کی عادت ہو گی مجھے مزا آنے لگا تو پھر آپ سب میرے مخالف ہو گے لیکن اس وقت تک تو میں اندھا ہو چکا تھا اس لیے مجھ تو کچھ نظر نہیں آتا جب کچھ نظر آیا تو میں سب کچھ ٹھیک کر دوں گا
جی صدر صاحب آپ کو کچھ نظر نہیں آتا آپ کو اس وقت نظر آئے گا جب آپ کو بھی اس طرح مہنگائی میں جینا پڑے گا جب آپ کا کوئی عزیز قتل ہو گا تب آپ کا نظر آئے گا پھر ایسا نظر ائے گا کہ آپ کبھی بھی اندھے نہیں ہو گے
خرم شہزاد خرم
__________________
so very true.. seems someone’s heart is bleeding..
if only the government realizes how many hearts it left bleeding besides the heads.
hats off to u ms madeeha.. uve not only truely spoken ure heart out by also those of thousands of journalists who are facing the worst form of harrasment they had ever experienced here in this land of the pure!!
مم مدیحہ کا لکھا ہوا مضمون دراصل ہماری وردی اور فوج ک سایہ تلے پلتی جمھوریت ک منہ پر ایک اور طمانچہ ہے۔پر ہم جانتے ہیں ہم نے اس سسٹم میں ہی زندہ رہنا ہے۔۔اس میں ہمارا اپنا قصور ہے۔ہمارے سامنے لوٹنے کھسوٹنے ک آرڈینینس آ رہے ہیں پر ہم خاموش گھروں میں بیٹھے ہیں۔۔جب ہم اپنا حق لینا ہی نہیں چاہتے تو ہمیں ملنا بھی نہیں چاہئے۔
صحافیوں کی خدمات اور پر خلوص کاوشیں اپنی جگہ لیکن ہمیں
دیکھنے ، پڑھنے اور مشاہدات کے بعد یہ بھی ملاہے کہ کچھ صحافی حضرات
ضمیر فروش اور ملک وملت کے بدخواہ بھی ہوتے ہیں جو اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لیے پوری صحافی برادری اور ملک کی ذلت کا باعث بنتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایسوں کے لیے کیا کہیئے گا؟
Well it goes like this the politician and writers are both on sale in the market some charge extra money some less it depends I’m trylly happy of seing geo goes down becuse geo is like CNN and BBC its bias and where is hamid meer now I don’t see him in any strike or protest he must be relaxing in his cool ac room just after making good money. there is one more thing if you wants to be famous you have to be anti of the pak gov. it doesn’t matter if its musharaf or any body you just have to be anti of the gov thats what happeing right now. I have no sympathy for any press or media they have got what they were asking
w-slama
salam 2 all..
some one sended dat web site to me…i am so gald to see that their is still something which get informed ppl abt wat is happening in pak….
good work …..
my prayers is with u..
Salam everyone,
Im h’ving job here in dubai,thats y i dont no well like u ppl coz u ppl rliving in country but i want to say here somthing about us(public). hum kissi ko blaim nai ker saktey keun k aaj tak hum ne kissi leader ka sahi intikhab kia hi nai hai Aj yeh humari hi ghalti ki waja se humein bewaqoof banaya ja raha hai,agar hum sahi intikhab kartey tu aaj humain yeh din na dekhna padhta.
Lekin aik aur baat bhi main yahan kehna chahta hon k ab tak hum main koi bhi samney nai aaya agar aaya tu akela aur kuch public k saath lekin isse se kia ho ga hum ko aik saath ho ker aawaz uthani ho gi,tab hum kuch karney k qabil ho saktey hain, humein aik saath hona padhey ga ,agar public raazi nai hai tu leader kia karey ga?humein ya tu leader ko manna ho ga ya tu aawaz uthani ho gi.really! here in foriegn country wat ppl say abt pakistan u dont know it! hum apney pak mulk ka naam kharab ker rahey hain ,humein her haal mein iss ko bachana ho ga.
Aaye aaj se teh ker lein k aaawaz dein gey tu saath peeth peechey nai, samney aao bhaio!!!!! Allah se doa karein k humarey mulk mein amman ho (Amin).
Aap sab ka bhai (Saghir pardesi)