ہماری غیرت کو چیلنج
![]()
راقم اعجاز وسیم باکھری -- نومبر 03, 2007
ہندو قوم کے دو غلے پن کے بارے میں ہمارے بزرگ سو فیصددرست فرما گئے ہیں کہ” بغل میں چھری منہ میں رام رام۔۔۔!“
جدید دور ہے،اصطلاحات بدل گئی ہیں۔پرانے وقتوں میں جس چیز کو”دو غلا پن“ کہا جاتاتھا آج اسے” ڈبل سٹینڈرڈ پالیسی“ یا سفارتی زبان میں” ڈپلومیسی“ کا نام دیا جاتا ہے جس کا بھرپور مظاہرہ آج کل بھارتی حکومت اور اس کا کرکٹ بورڈ کررہا ہے۔ہرروز یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان ہمارا دوست ملک ہے۔جس روز پاکستان کرکٹ ٹیم کے دورہ بھارت کے شیڈول کا اعلان ہوا تو ہندوستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ شردپووا رصاحب کا کہنا تھا کہ ہم چاہتے ہیں کہ پاکستانی شائقین کی بڑی تعداد یہاں آکر میچ دیکھے اور ہم اسی روایت کو برقرار کھنا چاہتے ہیں جو 2004ء میں بھارتی ٹیم کے دورہ پاکستان پر قائم کی گئی تھی جس میں بھارتی شائقین کو بے پناہ سہولیات فراہم کی گئی تھیں ہم بھی ویسا ہی کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن یہ بات محض” بغل میں چھری منہ میں رام رام“ کے مصداق ہی ثابت ہوئی ۔وقت جوں جوں گزرتا آیابھارتی کرکٹ بورڈ کے رویہ میں تبدیلی آتی گئی اور نوبت یہاں تک آپہنچی کہ جب سیریز شروع ہونے میں ایک ہفتہ کا وقت رہ گیا تو بھارتی حکومت اور کرکٹ بورڈ نے نہ تو پاکستانی شائقین کیلئے کسی سہولت کا اعلان کیا اور نہ ٹکٹ بھیجے اور نہ ہی ویزہ پالیسی کا اعلان کیا ۔ادھر بے بس کرکٹ بورڈ یعنی پی سی بی نے ہاتھ پاؤں مارنے شروع کردیے اور بی سی سی آئی نے پاکستان کرکٹ بورڈ پر احسان عظیم کرتے ہوئے و ن ڈے سیریز کا دوسرا میچ جو موہالی میں کھیلا جارہا ہے کے محض 250ٹکٹ بھیج دیے اور ایک ٹکٹ کی قیمت 9ہزارروپے مقررکی گئی ہے جبکہ ویز ہ الگ پیسوں سے لگوایا جائیگا ۔جبکہ اس کے برعکس جب 2004میں جب بھارتی ٹیم پاکستان کے دورے پر آئی تھی تو پاکستان کرکٹ بورڈ کے سربراہ شہریار خان کا وہ دورہ سربراہی تھا اور بھارتی شائقین کی اس قدر خدمت کی گئی اور انہیں وہ عزت اور مقام دیا گیا کہ پاکستانی شائقین کو اپنے ہی ملک کے سٹیڈیم، دہلی اور کولکتہ کے کرکٹ سٹیڈیم لگنے لگے۔پاکستانی حکومت نے ہندوستانی شائقین کو سر آنکھوں پر بٹھایاجبکہ اپنے ہی ملک کے عظیم ترین اور سابق کھلاڑیوں کو محض تھرڈ کلاس درجے کے انکلوژر کی محض دو دو ٹکٹیں فراہم کی گئیں جس کی سب سے بڑی مثال پاکستان کو کرکٹ کی دنیا میں متعارف کرانے والے عظیم فاسٹ فضل محمود کی ہے جنہوں نے ٹکٹ ملتے ہی یہ کہہ کر پھاڑ ڈالے کہ ”سٹیڈیم جاکر ذلیل ہونے سے تو میرا ٹی وی پر ہی میچ دیکھنا اچھا ہے“ دوسری جانب بغیر ٹکٹ خریدے بھارتی شائقین کو سٹیڈیم میں داخل ہونے کیلئے وی وی آئی پی گیٹ سے اندر لیجایا گیا اورجنہوں نے ٹکٹ خرید ے تھے وہ صدر مشرف کے بائیں جانب بنے خصوصی لاؤنج میں بیٹھے ۔جبکہ اس کے برعکس پاکستانی شائقین کی وہ تذلیل کی گئی کہ کئی تو ٹکٹ پھاڑ کرگھروں کو واپس چلے گئے اور جوپولیس کے ہاتھوں سرمیں ڈنڈے کھا کر ٹکٹ خرید لائے تھے انہیں دوسری اننگز کی شروعات کے بعد ہی اندر جانے کا موقع فراہم کیا گیا ۔
سرکاری سطح پر بھارتی مہمانوں کو اعلیٰ ترین کھانوں سے لطف اندوز کیا گیا جبکہ میری آنکھوں کے سامنے پنجاب پولیس کے جوان بھوک سے نڈھال ہو کر جہاں کھڑے تھے وہیں بیٹھ گئے ۔ہندوستانی شائقین کی ان کی اوقات سے زیادہ خدمت کرنے کے بعد ٹیسٹ اور ون ڈے سیریز کا تحفہ بھی دیا گیا لیکن پاکستان کے حصے میں کیا آیا وہ شاید میرے جیسے دل جلے پاکستانیوں کو اچھی طرح یاد ہی ہوگا کہ جب بھارتی صحافی پاکستان سے لوٹ کر اپنے دیس پہنچے تو ایک بہت بڑاپروپیگنڈہ شروع کیا گیا کہ ”پاکستان کی نوجوان لڑکیاں بھارتی فلمی ہیروز تو دو ر کی بات ہے بھارتی نوجوان لڑکوں کے ہمراہ فوٹو بنوانابھی اپنی زندگی کا سب سے اہم مشن سمجھتی ہیں اور ہوٹلز کے باہر ہر وقت فوٹو بنوانے کی خواہش مندلڑکیوں کی لمبی قطار رہتی تھی۔ بھارتی تماش بینوں نے اپنے سے بڑھ کر عزت اور توقیر کا یہ انعام پاکستان کو دیا ، اس کے علاوہ ایک بار پھر جب بھارتی ٹیم پاکستان کے دورے پرآئی تو پاکستانی سرکاراور کرکٹ بورڈ نے تما م باتوں کو بھلاکر دوسری بار ون ڈے میچز کیلئے 8ہزار بھارتی شائقین کو ویزے دیے اور پھر سہولتوں سے نوازاگیاجس کے جواب میں اب جب پاکستانی ٹیم بھارت پہنچ چکی ہے تو پاکستانی شائقین بھی بھارت جا کر میچ دیکھنے کے خواہش مند ہیں لیکن بھارتی حکومت نے نسلی تعصب پرستی اور پاکستان سے اپنی دشمنی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے ہر میچ کیلئے 250ٹکٹ دینے کا احسان کیا ہے اور ایک میچ کی ٹکٹ کی قیمت 9ہزار روپے مقرر کردی ہے ۔ جو کہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور اس سابق انتظامیہ کے منہ پر طمانچہ ہے جس نے ”جیت لودل“اور پیار تو ہونا ہی تھا “کے نام سے بھارتی شائقین کی غلامی کی۔
بھارتی حکومت کی جانب سے محض250ٹکٹ اور ایک ٹکٹ کی قیمت9ہزار روپے مقررکرنے سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ سٹیڈیمزمیں پاکستانی ٹیم کی ہر قسم کی سپورٹ اورحوصلہ افزائی کو روکنا ہے اور بھارتی حکومت کی مکمل کوشش یہی ہے کہ کسی بھی میچ کے دوران سٹیڈیم میں پاکستان کا جھنڈا نظر نہ آئے اور مجھے وہ دن بھی یاد ہے جب 2004 ء میں لاہور کے لبرٹی چوک میں بے باکی سے ہندوستان کے پرچم لہرائے جارہے تھے جس کے بارے میں میں زندگی بھر سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ مجھے وطن عزیز میں یہ نظارہ بھی دیکھنا پڑے گا۔ یہ سب ہماری حکومت کی ناقص اور بے ضمیر پالیسیو ں کا نتیجہ ہی تھا کہ تمام بڑے شہروں میں اتنی تعدادپاکستان کے جھنڈے نہیں تیار ہوئے ہوں گے جنتے بھارت کے باآسانی ہر چوراہے پر مل رہے تھے ۔بھارتی حکومت نے جو کیا ہے وہ اس کاحق ہے۔ وہ اگر چاہیں تو یہ 250ٹکٹ بھی واپس لے سکتے ہیں۔ لیکن سوال یہ پید ا ہوتا ہے کہ ہم کیوں یہ سب باتیں بھول جاتے ہیں؟۔کیوں ہم ان پر اعتبا رکرتے ہیں اور کیوں ان کو ان کی اوقات سے زیادہ عزت دیتے ہیں ۔۔۔جن کے منہ میں تو رام رام ہے لیکن بغل میں چھری ہے۔بقول شاعر:
بڑے خلوص سے ہم اعتبار کرتے ہیں
اس شعر میں ”دنیا“کی بجائے”ہندو“ لگا دیا جائے تو بات میں وزن پیدا ہو جائے گا یعنی:
بڑے وثوق سے ہندو فریب دیتاہے
بڑے خلوص سے ہم اعتبار کرتے ہیں
21 تبصرے برائے
”ہماری غیرت کو چیلنج“تبصرہ / پیغام شامل کیجئے۔
| كی بورڈ منتخب كریں: |
بلاگز
:درجہ بندی کیجئے
ہندو ہمیشہ سے پاکستان کو نیچا دیکھا نا چاہتے ہیں ۔ اس کے لیے وہ کویی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔وہ اپنی زندگی کا ہر کام پاکستان کے خلاف کرتے ہیں۔یہ سب تو ایک چھوٹی سی مثال ہے۔
پاکستان زندہ باد
انڈیا، بنڈیا مردہ باد
وسیم صاحب۔
اسلام علیکم!
آپ نے بالکل بجا فرمایا ہے۔ اس قوم سے ان ہی کرتوتوں کی وجہ سے آج تک دوستی نہیں ہو سکی اور کشمیر کا مسئلہ حل نہیں ہو سکا ورنہ یہ کوئی بڑی بات نہیں ہے کہ پچاس سال سے ہم ایک دوسرے سے چھوٹے چھوٹے تنازعات میں الجے ہوئے ہیں۔
اللہ تعالی ہمارے حکمرانوں کو ہدایت دے اور انہیں عقل سلیم نوازے تا کہ یہ بھی کچھ ہوش کے ناخن لیں۔
اللہ ہمارے وطن عزیز کا حامی و ناصر ہو۔
اللہ حافظ
اعجازصاحب، دل بڑا رکھیں۔ اتنی چھوٹی چھوٹی باتوں پر رونا شروع کیا تو بن گئی بات۔
اسلام کہتا ھے کہ اگر کوئی تم سے برا کرے ، پھر بھی اس سے اچھا سلوک کرو، اور درگزر کرو۔ نہ کہ تم نے یہ کیا اور ہم نے یہ کیا۔
واسلام
Dear Brother Ejaz:
Assalam-o-Alaikum
I fully agree with your view point. The so-called ‘Biggest Sham Democracy of the World’ propogated as India in the world has never accepted the independence, soverignity, existance and creation of the Islamic Republic of Pakistan from day one. It has tried its best to sabotage the foundations and the very ideology on the basis of which the biggest Islamic state of the 29th centruty was created. It has tried its best to demean and disgrace the land and people of Pakistan at every possible juncture since August 14, 1947 and by all possible means.
Just for the kind information of your readers, I want to point out that India is a “Hidu Terrorist State” since its independece one day after the independence of its biggest western neighbour.
India invaded Junagarh, Manadhir, Hyderabad, Kashmir and many similar stated in the 1940s and called it completion of the unfinished agenda of “Partition”
In 1950s it annexed Jammu and Kashmir and declared it as its integral part. In the 1960s, it over-ran Goa and termed it as annihilation of colonialism from the so-called sub-continent. In the 1970s, India captured Sikkam and classified it as “Completion” of Maha Bharat. In the 1980s it once again annexed Siachin Glacier and called it as taking-over of the “Undemarcated” territory.
Still, it propogates that India has never invaded any land since its inception and independence. Its powerful ruling elite class is subjugating the rights and previlages of more than 75% of its population who are forced to live below poverty line. Its influential media is keeping its eyes closed about the way Indian minorities are killed, looted, raped and treated as worst than third class citizens of their country of birth and brought-up but is very active to point fingers towards its biggest western neighbor.
Its high time that our commando generals should wake up and read the writings on the wall with courage, far-sightedness, intelligence, dedication and honesty. Instead of showing flexibility on the core issue of Jammu & Kashmir, it should stick to its guns and insist on implementation of the UN security council resolutions calling for plebisite in Jammu & Kashmir. If Saddam Hussain could be overthrown for violation of UN security council resolutions, why not the Indian ruling junta could be subjected to the same treatment?
How come India show the moral courage of becoming a “Permanent” member of UN while it is in open violation of UN resolution for the last 60 years? What moral, legal, social and ethical justification does India has to sit in the UN security council if its openly flouting since last 60years the resolutions passed by the same body?
In conclusion, the only way to solve the lingering problems with India including the core issue of Jammu & Kashmir is to treat India on equal basis, eye ball to eye ball and the way it treats us. Nothing more, nothing less. Otherwise, we shall keep on getting the same kind of response from Indians as the cricket fans have got, in the form of 250 visas only for on-going ODI with tickets of Rs 9000/-
Allah Haafiz O Naasir
Sincerely,
Aamir A. Salaria
St. Peters, Missouri 63303
U.S.A.
MY DEAR
INDIA ALWAYS DID LIKE TAHT AND LET ME SAY THAT
INDIAN WAS NOT , IS NOT AND WILL NOT FRIEND OF PAKISTAN … PAKISTAN ZINDA BAD…..
اسلام علیکم
آزمائے ہوئے کو کتنی دفعہ آزمائو گے ۔ پچاس سال تک انڈیا سے سختی سے گفتگو کر کے کچھ نہ ملا، سقراط مشورہ دیتے رہے کہ ذرا پیار سے بات کر کے دیکھ لیا جائے ۔نتیجہ وہی ڈھاک کے تین پات۔ جن لوگوں کو دل اندر سے سیاہ ہو نا، ان سے دیانت داری کی توقع نہی کی جا سکتی ۔بڑا افسوس ہو معلوم ہو کر کہ حکومت پاکستان نے کم ظرف ہندوستانیوں کی خوب خدمت کی، حتی کہ سیل فون کمپنیوں تک کے دائرہ کار کو پاکستان تک بڑہا دیا گیا ۔ شرم آنی چاہئے ان پاکستانیو ں کو جو منہ اٹھا کر انڈیا جا رہے ہیں۔ جب تک لوگ متحد نہ ہونگے اور قوم کے لئے اپنے ذاتی شوق کو قربان کرنے کی ہمت نہ رکھتے ہونگے، اس وقت تک کچھ نہی ہونے کا ۔
کیپاکستان کے لوگ پاکستان کو برا بھلاتو کہتے ہیں ،لیکن شاید یہ نہیں جانتے کہ پاکستان کی بے عزتی خود انکی باعزتی ہے ۔
الحمداللہ آج ہم نے اپنے ازلی دشمن کو شکست دی۔پاکستانی ٹیم بہت اچھا کھیلی۔
آپ نے بہت اچھا لکھا ہے ہندووں نے پاکستان کو کبھی دل سے تسلیم ہی نہیں کیا۔وہ ہمارے وطن کو مٹا دینا چاہتے ہیں۔ لیکن اس سے ان کا اپنا ملک ٹوٹ جاے گا۔
پاکستان پایندہ باد
ان لوگوں کے نام ھے جو غریب عوام کے دکھ اور درد کو صرف اور صرف لفظوں اور نعروں سے رفع کرنے کا ھنر جانتے ھیں ۔ ان لوگوں کے نام جو آٹے دال اور گھی کے جنجال سے ماورا ھیں
جن کو عرف عام لیڈرز کہا جا تا ھے۔
اے میرے چارہ گرو ، اے میرے ہم وطنو
میری دھرتی کے سپوتو ، اے میرے اپنو
دکھ کوئی لفظ نہیں ھے جو تمھیں لکھ بھیجوں
یہ کوئی نغمہ نھیں ھے کہ گا کے تم کو سناوں
یہ کوئی ساز نھیں ھے جو میں بجا کر لاوں
دکھ تو اک درد ھے غربت میں پلے لوگوں کا
بات باتونی جو کرتا ھے کھری کرتا ھے
دل پہ لینا نھیں یہ باتیں سڑی کرتا ھے
کھیل کو کھیل سمجھو کھری کھری صاحب۔۔۔۔ سیاست کرنے کے لیے سیاست دان کم تھے کہ آپ نے بھی علم بلند کرلیا۔۔۔۔ اس میں انڈیا کا کیا قصور، کرہ ارص کا ایک مقام بتادو جہاں پاکستان زلیل و رسواہ نہ ھو تا ھو۔۔۔۔ عادت ڈال لو اب ان سب باتوں کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
AoA,
Ap ka blog hey “Aina-e-Tasveer” abhee bhee main page pe show ho raha hey, jis main aik police wala aik larki ka dopatta khainch raha hey. Os waqt to ap ki ghairet ne josh nahee mara aur ap ne sirf tasveer bananey or blog likhney main hee ghanimat jana. Os ko tu itna derja bhee nahee dia ke os blog ka naam hee “Hamari Ghairet ko Challenge” rakh letey. Lakin India ne ap ko 250 tickets/match nahee de tu ap ki “GHAIRET” josh maar rahee hey (jabkey vo ghair or non muslim hain ye sub ker saktey hain). Shayed yehee ap ki GHAIRET ka miyar hey.
Allah ap ko lafz GHAIRET ka sahee mahfoom samjhney ki doufeeq de. (Ameen)
اسلام علیکم! اعجاز بھائی، آپ نے جو بھی اپنے viewsبیان کئے ہیں وہ100فیصد سچے ہیں بلکہ میںتو یہ کہوں گا کہ 150فیصد سچے ہیں۔ لیکن پھر بھی سمجھ نہیں آتی کہ پاکستانی حکومت ان ہندووں کے ساتھ کیوں اچھا سلوک کرتی ہے۔شاید اس وجہ سے کہ ہم مسلمان ہیں اور ہمیںہمارا مذہب اپنے وعدوں اور اقوال سے مکرنے نہیں دیتا ۔ مگر اتنا بھی گرنا نہیں چاہیے کہ دشمن کے غلام ہی لگنے لگ جائیں۔ ہماری حکومت تو کچھ غیرت مندی کا ثبوت دیتی ہے۔ لیکن ہندو قوم تو بے غیرتی کی انتہا کر دیتی ہے۔ ہماری حکومت کو چاہیے کہ بجائے دوسروں کو سہولیات دینے کے اپنی عوام اور رعایا کو سہولیات دیں۔تاکہ ہم جو آج اپنی حکومت کو برا بھلا کہتے ہیں کسی نہ کسی طرح سے تو اس حکومت کی قدر کریں۔ہماری حکومت نے ہمیںسہولت کیا دی ہے؟ وہ یہ کہ ہم گھر میں بھی بیٹھ کر میچ نہیں دیکھ سکتے۔جس چینل پر ہم نے میچ دیکھنا ہے اسے بھی بند کر دیا ہے ۔ ہم کیا اپنی حکومت سے توقع کر سکتے ہیں۔۔۔۔ کچھ بھی نہیں ۔بلکہ0-منفی فیصد۔۔۔۔۔۔
This is not truth what everybody passing their comments on their level but truth is some thing different which in these age no one wants to see it and no one wants to say truth because politics and public these are two things in these days suffering atlast public is suffering always.
So, politicians they want the discremination between people so they they called as politicians. any way i can say only one thing that if indian cricket board did all above mistakes only because of your politicians they can put this things in front of world and brought justification for their public but they cant do that because they cant create their power infront of the public. Its all about mistakes of your council and of your big big people to whom you elected as yoour decision maker.
Allah Hafiz
hey i am an avid reader of urdu point..can somebody plz fwd my msg to the owner of this website. i like this website cuz its the most up to dated website.. but i wud like to say that sum ppl who write articles here are really not worthwhile..2day i read article of Mohammad bun qasim(he wrote about GEO and others) and Tariq khan(wrote against Dr.shahid masood) i wud like them to say that b4 pointing fingers to others ist go n look into urselves! this is the problem wid u guys..u do nothing urself and r a burden for Pakistan.!!if dr shahid is now an anchor person then wt hell is ur problem? and i dont understand y ppl critiize politicians when thier kids come into politics..doctor makes his kids doctor,eng. makes it eng..then wts the problem wid politics??? anyways.. i no longer recommned this website to my family n co. u really need to work in the article section. some morons r criticizing others just for thier own stake. long live PAKISTAN! and Pakistan dun need elders like u..(mohd bin qasim,tariq khan.zubair khan)
اسلام وعلیکم!
میں بہت سارے لوگوں کے ویوز پڑھنے کے بعد یہ لکھ رہی ہوں۔لوگوںنے بالکل ٹھیک کہا ہے کہ ہندوستانی اس لائق ہی نہیںکہ ان کے بہتر سلوک کیا جائے۔ان کے ساتھ تو جتنا بھی برا سلوک ہو سکے کی جائے۔لیکن ساری غلطی پاکستانی حکمرانوںکی ہے جو خوشامد پسند ہو چکے ہیں ہندوستانی حکمران ان کی ذرا سی خوشامد کرتے ہیںاور یہ لوگ ان کے بھکوا ئے میں آجاتے ہیں۔ٹھیک ہے اسلام کہتا ہے کہ کسی کے ساتھ برا مت کرو چاہے وہ تمہارے ساتھ کتنا ہی برا کیوں نہ کرے۔لیکن یہ لوگ اسلام کی کئی اور باتوںپر تو عمل کرتے نہیںہیں اگر ایک اور بات نہ مانے گئے تو یہ لوگ جنت میںنہیں چلے جائیں گے۔اب ہندوستانی کرکٹ ٹیم یا کوئی ہندوستانی حکمران یہاں اآئے تو اس کی اتنی بے عزتی کرو کہ وہ لوگ اآئند کسی کے ساتھ برا کرنے کے لائق نہ رہیں ۔
والسلام۔۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان زندہ باد
india hameesha Pakistan k nuksaan ka sochta hay …india nay ajj tak Pakistan ko dil say qabool nahi kiya hay or hamaray siyasi leader hay k india k khushamdi may laghay rehtay hay.makkar dushman ki jitni khushammdi karoogahy wo uttna seena thaan kar kara hojata hay ….
oye putter bakhri tu is tarah kar keh chholiyaan de raihdi laa ley bhaati chauk te.ya phir romaal te ainakaan bechiya kar lari addey te,ya phir , ya phir laitreenaa da thaika le ley
Media sirf blackmailing or khud ko takatwar bnanay k liay nahin balkay behtri k liay use hona chahiay. USA, UK, FRANCE, INDIA, RUSSIA ka apna media to limits main reh kar kaam kar raha hay, or hamaray media per pabandi say unko takleef ho rahi hay. hum log khud hi is kadar laalchi or ghaddar ho chukay hain k apnay maksad k liay Pakistan to kiya Islam ka naam baichnay say bhi nahin ruktay.
السلام علیکم! آپ کا آرٹیکل پڑھ کر کچھ خوشی بھی ہوی کہ اب آہستہ آہستہ پاکستانیوں کو ہوش آرہا ہے کہ انہوں نے اپنی سالمیت اور قومیت کو کیسے دیکھنا ہے، ہم نے بحیثیت قوم و ملت ہر ملک سے دوستانہ روابط رکھے لیکن کسی نے ہمارے خیر سگالی پیغامات کو گھاس نہیں ڈالی، اب ہمیں یہ سوچنا ہے کہ کیا ہم اپنی قومیت کو برقرار رکھیں گے یا ان کی بتائی ہوئی باتوں کو مانیں گے اور ان کی ہر قسم کی زیادتیوں کو برداشت کرتے جائیں گے؟ سب سے بڑی بات یہ ہے کہ کیا ہم نے اپنی قومی شناخت کو اس قابل بنایا ہے کہ دنیا ہماری عزت کرے؟ کیا ہم نے اپنے آپ کو واقعی اس قابل بنایا ہے کہ دنیا ہمارے عمل کو اچھی نگاہ سے دیکھے؟ یا ہم ابھی تک وہی کچھ کر رہے ہیں کہ ہم اچھی اقدار تو دکھائیں لیکن اپنے عمل سے اسکو ثابت نہیں کیا، سب سے اچھا ہوتا اگر ہم اپنی عادات کو بدلتے اور ان کو بطور مہمان تو خوش آمدید کہتے لیکن اتنا سر پہ نہ چڑھاتے کہ وہ ہمیں ایک ایسی ملت سمجھتے جو دوسروں کے قدموں میں جھکتی چلی جاتی ہے، بلکہ ہماری مہمان نوازی کا معیار وہ ہونا چاہئیے تھا کہ ہم ان کے لئے اک اچھے مہمان نواز کے ساتھ ساتھ ایک اچھی قوم بھی ثابت ہوتے بلکہ جہاں تک میں سمجھتا ہوں کہ ہم لوگوں نے مہمان نوازی کا حق تو ادا کیا ہی تھا اس کے ساتھ ساتھ ہم ان کو اپنی قومیت کی اہمیت بھی سکھا دیتے تاکہ وہ یہ جان جاتے کہ اگر وہ واقعی امن کے خواہاں ہیں تو انہیں بھی وہی اقدار دکھانیں ہوں گی جن کا مظاہرہ ہم نے کیا ہے۔ امید ہے کہ میری ان باتوں سے امن کی ان چلتی ہوئی راہوں میں کوئی رکاوت نہیں آئے گے۔
AA,. in my point ofview this is all from our GOVT policies.
ROSHAN-KHALI is the gift of Mushraf GOVT. not only in matches but BSANT has no difference. I just pray to GOD , SAVE US SAVE US.
thanx
150فیصد سچے ہیں۔ لیکن پھر بھی سمجھ نہیں آتی کہ پاکستانی حکومت ان ہندووں کے ساتھ کیوں اچھا سلوک کرتی ہے۔شاید اس وجہ سے کہ ہم مسلمان ہیں اور ہمیںہمارا مذہب اپنے وعدوں اور اقوال سے مکرنے نہیں دیتا ۔ مگر اتنا بھی گرنا نہیں چاہیے کہ دشمن کے غلام ہی لگنے لگ جائیں۔ ہماری حکومت تو کچھ غیرت مندی کا ثبوت دیتی ہے۔ لیکن ہندو قوم تو بے غیرتی کی انتہا کر دیتی ہے۔ ہماری حکومت کو چاہیے کہ بجائے دوسروں کو سہولیات دینے کے اپنی عوام اور رعایا کو سہولیات دیں۔تاکہ ہم جو آج اپنی حکومت کو برا بھلا کہتے ہیں کسی نہ کسی طرح سے تو اس حکومت کی قدر کریں۔ہماری حکومت نے ہمیںسہولت کیا دی ہے؟ وہ یہ کہ ہم گھر میں بھی بیٹھ کر میچ نہیں دیکھ سکتے۔جس چینل پر ہم نے میچ دیکھنا ہے اسے بھی بند کر دیا ہے ۔ ہم کیا اپنی حکومت سے توقع کر سکتے ہیں۔۔۔۔ کچھ بھی نہیں ۔بلکہ0-منفی فیصد۔۔۔۔۔۔
ہی نہیںکہ ان کے بہتر سلوک کیا جائے۔ان کے ساتھ تو جتنا بھی برا سلوک ہو سکے کی جائے۔لیکن ساری غلطی پاکستانی حکمرانوںکی ہے جو خوشامد پسند ہو چکے ہیں ہندوستانی حکمران ان کی ذرا سی خوشامد کرتے ہیںاور یہ لوگ ان کے بھکوا ئے میں آجاتے ہیں۔ٹھیک ہے اسلام کہتا ہے کہ کسی کے ساتھ برا مت کرو چاہے وہ تمہارے ساتھ کتنا ہی برا کیوں نہ کرے۔لیکن یہ لوگ اسلام کی کئی اور باتوںپر تو عمل کرتے نہیںہیں اگر ایک اور بات نہ مانے گئے تو یہ لوگ جنت میںنہیں چلے جائیں گے۔اب ہندوستانی کرکٹ ٹیم یا کوئی ہندوستانی حکمران یہاں اآئے تو اس کی اتنی بے عزتی کرو کہ وہ لوگ اآئند کسی کے ساتھ برا کرنے کے لائق نہ رہیں ۔
والسلام۔۔۔۔۔۔۔۔۔پاکستان زندہ باد