آر ایس ایس   UrduPoint Blogs Feeds بلاگز   Comments RSS Feeds تبصرے

ان دنوں پورے ملک میں الیکشن کی تیاریاں زوروں پر ہیں اور ہر ایک امیدوار اپنے اپنے حلقے کے لوگوں کو سبزباغ دکھانے میں مصروف ہے لیکن جہاں بڑی پارٹیاں الیکشن مہم کو تیزی سے چلا رہی ہیں وہیں چندچھوٹی مگر حوصلہ مند پارٹیوں نے الیکشن سے بائیکاٹ کا اعلان کررکھا ہے مسلم لیگ کے نام پر قابض (ق )گروپ اور کراچی کی قسمت کو اپنے ہاتھوں سے لکھنے ،سنوارنے اور بگاڑنے والی محب وطن جماعت ایم کیو ایم دو ایسی جماعتیں ہیں جو اس یقین سے الیکشن لڑرہی ہیں کہ انہوں نے کامیابی حاصل کرنی ہے کیونکہ صدرصاحب نے اپنے مقاصدحاصل کرنے کے ساتھ ساتھ کچھ ایسے حالات پیدا کردیے ہیں کہ اگر کوئی ووٹ ڈالنے ہی نہ بھی جائے مگر یہ دوپارٹیاں بھاری اکثریت سے فتح یاب ہونگی۔اور ان دونوں جماعتوں کے منشور کی بھی کسی کو سمجھ نہیں آسکی کہ وہ کہنا کیا چاہ رہے ہیں۔کیونکہ پانچ سالہ دورحکومت میں ان دونوں پارٹیوں نے جتنے (معرکے)فتح کیے وہ ہم سب اچھی طرح جانتے ہیں۔ جبکہ پاکستان کی سب سے بڑی عوامی پارٹی پیپلزپارٹی نے عدلیہ کی (بحالی )کی بجائے عدلیہ کی”آزادی “کو نمایاں حروف میں اپنے منشور میں جگہ دی ہے اور پیپلزپارٹی وہ واحد جماعت ہے جسے سب سے زیادہ خطرہ ہے کہ الیکشن میں دھاندلی ہوگی اور وہ متوقع دھاندلی کی رٹ بھی لگارہی ہے اور الیکشن مہم کو بھی چلارہی ہے جس کی مجھے نہیں سمجھ آسکی کہ ان دونوں کاموں کو ایک ساتھ کرنے کے محرکات کیا ہیں لیکن یہ پاکستان ہے یہاں کوئی بڑاراز زیادہ دیر نہیں چھپایا جاسکتا ۔ دوسری جانب مسلم لیگ نواز گروپ پہلے الیکشن کے بائیکاٹ پرراضی تھا لیکن نجانے کیا سوجھنے کے بعد نواز شریف نے الیکشن میں حصہ لینے کا اعلان کرکے عمران خان اور قاضی حسین احمد کی پیٹ میں چھرا گھونپ دیا ہے جواس یقین کے ساتھ الیکشن کا بائیکاٹ کرچکے تھے کہ مسلم لیگ نواز ان کا بھر پور ساتھ دیگی لیکن نواز شریف نے یہ کہہ کہ اے پی ڈی ایم سے علیحدگی اختیار کرلی کہ ”ہم خالی میدان نہیں چھوڑنا چاہتے” نواز شریف صاحب آج بھی اس بات کا قائم ہیں کہ ان کی پارٹی کی سب سے بڑی اور اولین ترجیح چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سمیت اُن ساٹھ ججز کی بحالی ہے جنہیں صدر مشرف نے اپنے اقتدار کو طول دینے کیلئے ایمرجنسی اور پی سی او کی آڑمیں گھروں میں نظر بند کردیا ۔نواز شریف صاحب کہتے ہیں کہ وہ یہ معاملہ پارلیمنٹ میں جا کرحل کرینگے جبکہ عمران خان کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں الیکشن لڑنا ہی ملک اور آئین سے غداری ہے کیونکہ صدرمشرف نے اپنے تمام مقاصد حاصل کرلیے ہیں اور اب وہ الیکشن کا ڈرامہ رچاکر اپنے غیر قانونی اقدامات کو آئینی تحفظ دینا چاہتے ہیں لہذا الیکشن کے بائیکاٹ کے سوا اور کوئی حل نہیں ہے۔سیاسی پارٹیوں نے تو عمران خان کا ساتھ دینے سے انکار کردیا ہے کیونکہ عمران خان عدلیہ کی آزادی چاہتے ہیں جبکہ ہمارے سیاستدان آزاد عدلیہ سے ڈرتے ہیں اوراسمبلی میں جانے کے خواہشمند ہیں اس لیے عمران خان عدلیہ کی بحالی کی تحریک میں تنہا رہ گئے ہیں مگر عوامی سطح پر لوگ عمران خان کی بھر پور تائید کررہے ہیں ۔اسی بائیکاٹ کے مسئلے پر ایم ایم اے انتشار کا شکار ہوگئی ہے اور مولانا فضل الرحمن نے پہلے تو قاضی صاحب کی جانب سے بائیکاٹ کرنے کے فیصلے کو غلط قرار دیکر الیکشن میں حصہ لینے کااعلان کیا اور بعد ازاں متحدہ مجلس عمل میں مارشل لا نافذ کرکے خود ایم ایم اے کی صدرات کی کرسی سنبھال لی ہے اور قاضی صاحب کو کھلے عام میدان میں اترنے کا چیلنج کردیاہے۔یہ وہ تمام صورت حال تھی جو اس وقت پاکستان میں قائم ہے ۔
حکومت کی حامی جماعتوں کا خیال ہے کہ الیکشن بالکل شفاف ہونگے جبکہ اپوزیشن پارٹیوں کا موقف ہے ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنے کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ آنے والے انتخابات کیلئے اپنی مرضی کا الیکشن کمیشن ہو اور اعلیٰ عدالتوں کے ججز بھی اپنے ہوں تاکہ ”فتح کی راہ پر کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے“پاکستان کا موجودہ سیاسی ڈھانچہ چار گروپوں میں تقسیم ہوچکا ہے مسلم لیگ ق والے اور ایم کیو ایم مسلسل دوسری بار لوٹ مار کرنے کیلئے، محترمہ بینظیر بھٹو وزارت اعظمیٰ تک رسائی کیلئے اور نواز شریف بطور احتجاجاً میدان خالی نہ چھوڑنے کا بہانہ بناکر الیکشن لڑرہے ہیں جبکہ چوتھا گروپ باغی گروپ ہے جس کی قیادت عمران خان کررہے ہیں جہاں وہ عوام کو بائیکاٹ کی تلقین کرنے میں مصروف عمل ہیں۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پاکستان کااور پاکستانی عوام کا مخلص کون ہے ق لیگ والے جو دوبارہ پاکستان کو ترقی کی راہ پر چلانے کے خواہشمند ہیں؟ یا محض اقتدار کی خاطر ایوان میں جانے کی تمنا رکھنے والی پاکستان پیپلزپارٹی ؟جس کا منشور آج سے تین ماہ قبل محترمہ بینظیر بھٹو نے نیویارک میں پیش کیا تھا کہ اگر پی پی پی اقتدار میں آگئی تو امریکہ کی ڈاکٹر عبدالقدیرخان تک رسائی کوممکن بنائے گی اور لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے کلچر کو بری طرح کچل دیا جائیگا ۔ تیسرا گروپ نواز شریف اور فضل الرحمن کا ہے جو وکٹ کے دونوں جانب کھیل رہاہے وہ عدلیہ کی بحالی اور دوسرے مسائل پارلیمنٹ میں جاکر حل کرنا چاہتے ہیں جو کہ میرے خیال میں قوم کے ساتھ سب سے بڑامذاق بھی یہی دو پارٹیاں کررہی ہیں کیونکہ مسلم لیگ ق اور پیپلزپارٹی محض اپنی ذات کیلئے جدوجہد کررہی ہے اور ان سے کسی بھلائی کی توقع رکھنا بھی بے وقوفی ہے مگر نواز شریف اور فضل الرحمن کا پارلیمنٹ میں جاکر مسائل حل کرنے کا پروگرام قو م کے ساتھ سب سے بڑا مذاق اور دھوکا ہے۔گزشتہ پانچ سالوں میں فضل الرحمن کی پارٹی اور مسلم لیگ ن ایوان میں موجود رہی لیکن یہ لوگ کچھ بھی نہ کرسکے …مشرف حکومت نے شمالی اور جنوبی وزیرستان میں اپنے ہی شہریوں پر امریکی افواج کے ساتھ ملکر بم گرائے یہ دونوں پارٹیاں ایوان میں تھیں لیکن کچھ نہ کرسکیں …
ملک میں مہنگائی نے غریب لوگوں کو سولی پر لٹکا دیا اور یہ سارے ایوان میں تھے مگرکچھ بھی کرنہ سکے …پاکستانی شہریوں کو بش کی خوشنودی کی خاطر امریکہ کے حوالے کیا جاتا رہا یہ لوگ ایوان میں تھے مگر کچھ نہ سکے…ملک میں چن چن کر علماء کو قتل کیا گیا… لال مسجد پر بم گرائے جارہے تھے …معصوم لڑکے لڑکیوں کو بے دردی سے قتل کیا جاتا رہا یہ ایوان میں تھے مگر کچھ نہ کرسکے …ملک میں مساجد اور مدارس پر بلڈوزر چلائے جاتے رہے لیکن یہ سبھی اسمبلی میں موجود تھے مگر کچھ نہ کرسکے …مشرف نے عدلیہ پر شب خون مارا ایک آزاد ملک کے چیف جسٹس کو جی ایچ کیو بلا کر ”اپنے ساتھ تعاون کرنے پر‘مجبور کرنے کی کوشش کی،انکار پر اسے گھر بھیج دیا گیا یہ تمام لوگ ایوان میں تھے مگر کچھ نہ کرسکے ۔یہ لوگ پانچ برس ایوان میں رہ کر وہ کچھ حاصل نہ کرسکے جو محض2ماہ میں وکلاء سول سوسائٹی اور صحافیوں نے ”سٹرک “پر کھڑے ہوکر حاصل کیا ۔انہیں تو ووٹ مانگتے ہوئے بھی شرم آنی چاہیے کہ وہ کس منہ سے ووٹ مانگنے آئے ہیں ؟ان سے تو ہزار درجے وہ چھوٹی پارٹیاں اچھی ہیں اور محب وطن کہلاونے کا مکمل حق رکھتی ہیں جو عدلیہ کی بحالی کیلئے الیکشن کا بائیکاٹ کرچکی ہیں اور عمران خان کاموقف بالکل درست ہے کہ موجودہ حالات میں جہاں ملک کے بہترین ،غریب کے ساتھی اور اللہ تعالیٰ کی ذات سے ڈرنے والے 60 ججوں کو گھروں پر نظر بندکردیا گیاہوایسے حالات میں الیکشن میں حصہ لینا اپنے مستقبل اور60 ججز کے ساتھ کے ساتھ ساتھ پاکستان کی سالمیت کے ساتھ غدرای کے مترادف ہے ۔گوکہ پاکستان اس وقت شدید بحران کا شکار ہے مگر موجودہ حالات پیدا ہونے سے ایک فائدہ پہنچا ہے کہ تمام سیاسی پارٹیوں اور ان کے لیڈران کی سوچ ان کی خواہشیں اورعزائم واضح طور پر سامنے آئے گئے ہیں کہ کون کیا چاہتا ہے۔
پاکستان اپنی تاریخ کے سنگین ترین دور سے گزر رہاہے اور اب نوبت یہاں تک آپہنچی ہے کہ وہ وقت بھی نہیں رہا کہ الیکشن کے موقع پر یہ کہا جاسکے کہ ”ملک کا مستقبل عوا م کے ہاتھ میں ہے کہ وہ جسے چاہے منتخب کرے “یہ الفاظ اس وقت ادا کیے جاتے ہیں جب ریاست میں قانون کی بالا دستی ہو اور عدالتیں آزاد ہوں ۔کاش ایسا دور دوبارہ لوٹ آئے ۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars :درجہ بندی کیجئے
Loading ... Loading ...
احباب کو بذریعہ ای میل بھیجئے | پرنٹ کیجئے |

3 تبصرے برائے

”لُٹیرے بمقابلہ ڈاکو“
  1. تاریخ اشاعت: دسمبر 15, 2007 راقم M.Sarfraz,Houston TX UNITED STATES

    asa ijaz Saab,
    you have pictured the whole situation very beautifully,
    In my opinion Pakistan is facing its major crisis since 1971, there is no rule of law, we don’t see any gov. ritt,which our beloved president keep saying all the time(sorry i don’t love him),people are crying for ATA, whole police force is working day and night to capture BIG CRIMINALS like lawyers, students, human rights activists, and all those who they feel love democracy and rule of law, our ARMY is killing innocent people in northern borders, now every body is talking about elections, well in my opinion these elections are just wastage of money!!!!!iam very disappointed with the way these two so called major parties have behaved(PML N,PPP)i was hoping that after so many years in politics they must have learned some thing good, or at least they must have learned some character…but I am very disappointed to say that they are just lusty land lords and industrialists, every body has his logics wtevr he do. if some one commit crime like stealing or murder he has his logics, so now these two leaders have same up with bogus logics that they will fight for the rights of GUDGES in parliament…ahhhhhhhh alas, they shud have known that 1st of all these two parties together can not get 2third majority to change any constitutional amendment including 52B, so how they gona fight in parliament???? they are just making fool of them selves and poor pppl,i am afraid to say this but in my opinion there will be no change wtsoevr in these elections, the only thing which could have changed was to boycott these elections and gathered all civil society against this dictator, but iam afraid that Pakistani ppl have lost A BIG chance to make things right, “KHUDA NE AAJ TEK US KOAM KI HALAT NAI BADLI…NA HO KHUD KHYAAL JIS KO AAP APNI HALAT K BADALNY KA” so we as a nation deserve wt is happening, y as a nation we are not helping ppl like IMRAN,ITEZAZ, and rest of lawyers????? its just because we are afraid of some thing bad which can happen to our selves or to our family..iam writing this blog but still i no i also can not do that…its very easy to flow with time but it take lot of courage to stand against flow of time!!!! thts y we know 72 shaheeds of KARBLA but we don’t know the names of any yazeeds family member except ameer mavia(ra) (his father), I think we should wait until god send some angles to help us!!!

  2. تاریخ اشاعت: دسمبر 15, 2007 راقم Azhar Mehfooz KUWAIT

    Yes , Aijaz . you are 100% right .
    No body is interested to rebuild Pakistan .
    All politicians are selfish for there own .
    God Bless Us.

  3. تاریخ اشاعت: دسمبر 15, 2007 راقم Fahad Ashraf UNITED KINGDOM

    Assalam-O-Alaikum Everyone:
    You are exactly right Mr. Ejaz at this point. The complete boycott of election in all respects is the right solution to prove your loyalty with Pakistan. The Respectable and Honourable Judges who refused to take oath on PCO (Pervaiz Musharraf Consitutional Order) and the small political parties like Mr. Imran Khans’ one are the REAL, HONEST, BRAVE, LOYAL, and DARING successors of Pakistani nation. They are like those Brave Pakistani soldiers (Here Soldiers mean JAWAANS only not Senior Officers) who can sacrifice their lives for the prestige and image of the country without compromises. These people especially The 60 Honourable Judges have laid down the Foundation Stone for the Revolution in Pakistani history. Now they are living in the Heart of every Pakistani. But all other Traitors, Touts, and Foreign Agents like Benezair-The Deal Specialist, Nawaz-The Corrupt Power Hungry, Fazal-ur-Rehman-the Biggest Black Spot in the Face of Pakistan, Q-Lota League, the Murderers MQM, etc. etc. will be remembered with extremely Bad and Nasty names like Bad ABUSES in Pakistani History. SO every wise and Loyal Pakistani must follow the Footsteps of these courageous 60 Hounourable Judges and Mr. Imran Khan to get Pakistan out of trouble. May ALLAH help my Pakistan and all of its lovable citizens. Ameen!

بلاگ کا مستقل لنک | بلاگ کے تبصروں کی آر ایس ایس فیڈز

تبصرہ / پیغام شامل کیجئے۔


كی بورڈ منتخب كریں:

Urdu
English



تصویری الفاظ من و عن تحریر كریں


Warning: include() [function.include]: URL file-access is disabled in the server configuration in /home/blogsup/public_html/wp-content/themes/urdupoint/footer.php on line 2

Warning: include(http://www.urdupoint.com/poetry/footer.shtml) [function.include]: failed to open stream: no suitable wrapper could be found in /home/blogsup/public_html/wp-content/themes/urdupoint/footer.php on line 2

Warning: include() [function.include]: Failed opening 'http://www.urdupoint.com/poetry/footer.shtml' for inclusion (include_path='.:/usr/lib/php:/usr/local/lib/php') in /home/blogsup/public_html/wp-content/themes/urdupoint/footer.php on line 2