آر ایس ایس   UrduPoint Blogs Feeds بلاگز   Comments RSS Feeds تبصرے

پاکستان آجکل انتہائی مشکلات سے دوچارہے مگر یہ ثابت نہیں ہورہا کہ ان تمام مسائل کا “ذمہ دار کون ہے“ ۔کچھ لوگ کرسی بچانے کے چکروں میں پڑے ہوئے ہیں تو کچھ کرسی کے حصول کیلئے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال رہے ہیں ۔جبکہ دوسری جانب ملک میں آٹے، بجلی اورگیس کا شدید بحران ہے ، لوگ فاقہ کشی پر مجبور ہوچکے ہیں ۔ملک میں اس قدر آٹے کا بحران ہے کہ ہزاروں گھر ایسے ہیں جہاں باپ سارا سارا دن آٹا خریدنے کیلئے لائن میں لگے رہتے ہیں مگر شام کو مایوس ہوکر گھر لوٹ آتے ہیں تو رات کو مائیں اپنے بچوں کو بھوکا سلا دیتی ہیں ۔یہ بات محض کہنے کی حدتک نہیں ہے بلکہ بدقسمتی سے اس وقت پاکستانی عوام اس قیامت خیز صورتحال سے گزررہی ہے۔مگر کوئی ایک بھی نہیں ہے جو عوام کو درپیش مشکلات حل کرنے کیلئے فکر مند ہوایک طرف لوگ بھوکے مر رہے ہیں تودوسری جانب ملک میں دہشت گردی کا بازار گرم ہے جہاں عام آدمی تو دور کی بات ہے اب تو ملک کی معروف شخصیات بھی محفوظ نہیں رہیں لیکن حکومت شاید اپنے ”انجام“سے واقف ہے اس لیے وہ اقتدار چھوڑنے کو تیار نہیں ہے کیونکہ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان کے سرپر ہزاروں بے گناہ پاکستانیوں کا خون ہے جس کا ایک نہ ایک روز حساب دینا ہی ہوگا ۔اسی لیے وہ اپنے آپ کو بچانے کیلئے ہر رکاوٹ کو توڑنے میں لگے ہوئے ہیں مگر کب تک …؟اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے۔اس کے گھر میں دیر ہے اندھیر نہیں ۔وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ آخر کب تک پاکستان میں مظلوم کے ساتھ جبرہوتا رہے گا اور کب تک بے گناہ لوگوں کا خون بہتا رہے گا اور غریب عوام بھوکی رہے گی؟ظالم حکمران شاید اللہ تعالیٰ کی طاقت سے ناواقف ہیں اسی لیے ظلم کے پہاڑ توڑتے جارہے ہیں مگر میں یقین سے کہہ سکتا ہوں اللہ تعالیٰ بہت جلد پاکستانی عوام کوان ظالموں سے نجات دینا والا جو انسانیت کی توہین کررہے ہیں۔
پیپلزپارٹی کی بانی ذوالفقار علی بھٹو کو قائد عوام کہا جاتا ہے واقعی وہ بہت بڑے اور عظیم لیڈر تھے۔ مختلف کتابوں میں ذوالفقار علی بھٹو کے بارے میں پڑھنے کے بعد میں بھی خود کو ذوالفقار علی بھٹو کے فینز میں شامل محسو س کرتا ہوں مگر مجھے“ آجکل کی “پیپلز پارٹی کی سیاست ، نظریات، فکر اور کلچر سے کبھی اتفاق نہیں رہا لیکن محترمہ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد اس واقعہ سے بلاشبہ صدمہ اور افسوس ہوا کہ ایک خاتون سیاسی لیڈر کو جس بہیمانہ طریقے سے قتل کیا گیا اس سے یہ سوال ہر حساس شخص کے قلب و ذہن میں پیوست ہوچکا ہے کہ کیا ہم بحیثیت قوم کبھی مہذب بن بھی سکیں گے کے نہیں؟۔ اس ملک میں کب تک جنگل کا قانون جاری رہے گا اور قاتل درندوں کا راج چلے گا؟ سیاسی نظریات و اختلافات کی وجہ سے کسی کو گولی مار دینا، انسانیت نہیں درندگی ہے۔ جتنا بڑا یہ جرم ہے، اس سے کہیں بڑا جرم کسی بے گناہ کو قتل کرنے کے بعد اس کے قتل کی ذمہ داری کسی اور بے گناہ پر ڈال دینا ہے۔یہی سب کچھ آجکل پاکستان میں ہورہا ہے جس سے ہماری ترقی کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
بے نظیر بھٹوکے قتل کے بعد آج بھی کراچی سے چترال تک ، پورا ملک سوگ میں ڈوبا ہوا ہے ۔ ہر آنکھ اشکبار اور ہر دل سوگوار ہے ۔ 10روز گزرنے کے بعد بھی ملک میں کاروبار زندگی معمول پر نہیں آسکی اور شاہراہیں بند اور بازار سنسان پڑے ہیں ۔اس کی دو وجوہات ہیں ایک تو پی پی پی کے جتنے بھی حمایتی ہیں وہ مسلسل بے نظیر بھٹو کے قتل کے بعد انتہائی دکھ اور غم میں مبتلا ہیں اور دوسری وجہ بے نظیر کی موت پر ہونے والا احتجاج تھا جس نے پورے ملک کو جڑوں سے ہلا کررکھ دیا۔کم از کم پورے ملک میں 50لوگ اپنی زندگی کی بازی ہار گئے اور اربوں کی املاک کو جلا کرراکھ کردیا گیا اورحکومت کہتی ہے کہ 10ارب روپے کا نقصان ہواہے ۔ بے نظیر بھٹو کی المناک موت قومی سانحہ ہے تو اس پر اس طریقے سے احتجاج اس سے بھی بڑا سانحہ ہے ۔ احتجاج کا یہ طریقہ بتارہا ہے کہ ہمارا قومی شعور کس قدر کمزور ہے ۔ سرکاری اور نجی املاک کو جلانے سے بے نظیر بھٹو کے قاتلوں کو کوئی نقصان پہنچا اور نہ حکمرانوں کی صحت پر کوئی اثر پڑ ا ۔بلکہ اس سے ان لوگوں کی مرادیں پوری ہوئی ہیں جو پاکستانی قوم کوبے نظیر بھٹو جیسی عظیم لیڈر کے سایے سے محروم کرکے قومی سطح پر یتیم بنانا چاہتے ہیں ۔ وہ لوگ جو اسلام کے دشمن ہیں ، جو پاکستان کے دشمن ہیں ۔ جو اس قوم کے دشمن ہیں اور جو اس قوم کی قیادت کے دشمن ہیں ، وہ پاکستان میں بدامنی ، انتشار اور توڑپھوڑ دیکھ کریقینا خوش ہورہے ہوں گے ۔احتجاج کا یہ طریقہ غیرمناسب اور افسوسناک ہے جس کی تائید نہیں کی جاسکتی لیکن اس سے بخوبی یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بے نظیر بھٹو سے لوگوں کو کس قدر عقیدت تھی اور ان کو کس طرح کروڑوں لوگ جذباتی حد تک چاہتے تھے ۔اب پی پی پی والے کہتے ہیں کہ احتجاج تو ہم نے کیا مگر لوٹ مار” قاف لیگ“ اور ایم کیو ایم نے کی پرویز الٰہی آصف زرداری کواس نقصان کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں تو زرداری صاحب نے قاف لیگ کو (قاتل لیگ ) قرار دیکر تمام ذمہ داری ان پر ڈال دی ۔نجانے کب تک ہم یوں ہی اپنا آپ اجاڑتے رہیں گے ؟شاید بہت سے لوگوں کو یہ بات بھول گئی ہوکہ اسی طرح کا ایک سانحہ 12مئی کو بھی پیش آیا تھا جس میں 50لوگوں کو دن دہاڑے موت کے گھاٹ اتار دیا گیا مگر آج تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اس سانحہ کا ”کون ذمہ دار ہے“ مشرف صاحب ایوان صدر میں بیٹھ کر مغربی دنیا کو یہ سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں کہ ہم آگے کی طرف بڑھ رہے ہیں مگر حالات ایک بار پھر پاکستان کو تقسیم کے دہانے پر لے جارہے ہیں ۔جس طرح بے گناہ لوگوں کو قتل کیا جارہا ہے اور لیڈروں کو نشانہ بنا یا جارہا ہے اور ملک جس تیزی سے مہنگائی کے طوفان میں ڈوب رہا ہے اس تو یہی ظاہر ہوتا ہے کہ ہم آزادی کے 60سال بعدبھی اسی جگہ پر کھڑے ہیں جہاں 1947میں کھڑے تھے مگر فرق صرف اتنا ہے کہ اس وقت جو ملک اور قوم کا قائد تھاوہ اپنے اقتدار سے زیادہ عوام کی ترقی چاہتا تھا وہ پاکستان کو مسلم ورلڈ کا ٹائیگر بنا نا چاہتا تھا لیکن آج کا قائد ملک کو امریکہ کا غلام بنا کر رکھنا چاہتا ہے اور اسے عوام سے زیادہ اپنی کرسی کی فکر ہے یہی وجہ ہے کہ آج پاکستان میں لاقانونیت عروج پر ہے ۔ملک کے بڑے بڑے سیاسی لیڈوروں کو چن چن کر مارا جارہا ہے اور سرکار پریہ ثابت ہی نہیں ہورہا ہے کہ ”کون ذمہ دار ہے”…بے گناہ لوگوں پر گولیوں کی بوچھاڑ کی جارہی ہے لیکن حکومت کو پتہ ہی نہیں چل رہا کہ ”کون ذمہ دار ہے“…لو گ بھو ک سے مررہے ہیں ،پیاس سے عوام کا گلہ خشک ہوچکا ہے ،تیل اور گیس کی قیمتیں آسمان کو چھورہی ہیں اور بجلی کا بحران اس قدر شدید اور طویل ہوچکا ہے کہ دفاتر میں لوگ سارا دن فارغ بیٹھے رہتے ہیں، مارکٹیوں میں اندھیرے کی وجہ سے گاہکوں نے آنا چھوڑ دیا ہے ،تعلیمی اداروں میں روشنی نہ ہونے کی وجہ سے سٹوڈنٹ بے کار ہوچکے ہیں اور ہسپتالوں میں مریض آپریشن نہ ہونے کی وجہ سے سٹریچر پر جان دے رہے ہیں مگر مشرف صاحب کو اب تک یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ اس صورتحال کا ”کون ذمہ دار ہے “۔وہ بڑے طمطراق سے کہتے ہیں ”تحقیقات جاری ہیں “ابھی جائزہ لے رہے ہیں کہ “کون ذمہ دار ہے“۔میری اپنے قارئین سے گزراش ہے کہ آجکل حکومت شدید پریشانی کا شکار ہے اورآپ ہی ان کی مدد کریں اور حکومت کو ان تمام مسائل کے ذمہ داروں کی نشاند ہی کرکے اپنا قومی فرض ادا کریں۔شکریہ۔

1 Star2 Stars3 Stars4 Stars5 Stars :درجہ بندی کیجئے
Loading ... Loading ...
احباب کو بذریعہ ای میل بھیجئے | پرنٹ کیجئے |

بلاگ کا مستقل لنک | بلاگ کے تبصروں کی آر ایس ایس فیڈز

تبصرہ / پیغام شامل کیجئے۔


كی بورڈ منتخب كریں:

Urdu
English



تصویری الفاظ من و عن تحریر كریں


Warning: include() [function.include]: URL file-access is disabled in the server configuration in /home/blogsup/public_html/wp-content/themes/urdupoint/footer.php on line 2

Warning: include(http://www.urdupoint.com/poetry/footer.shtml) [function.include]: failed to open stream: no suitable wrapper could be found in /home/blogsup/public_html/wp-content/themes/urdupoint/footer.php on line 2

Warning: include() [function.include]: Failed opening 'http://www.urdupoint.com/poetry/footer.shtml' for inclusion (include_path='.:/usr/lib/php:/usr/local/lib/php') in /home/blogsup/public_html/wp-content/themes/urdupoint/footer.php on line 2