بحرانوں کا گرداب ۔۔۔
![]()
راقم شہزاد ظفر -- جنوری 08, 2008
ہماری قوم کو اس وقت مختلف قسم کی نت نئی آزمائشوں کا سامنا ہے ایک کے بعد ایک بحران آتا چلا جا رہا ہے قیامت کی نشانیاں آج کے دور میں دیکھی جا سکتی ہیں ، دنیا چاند پر جانے کے بعد اور آگے کے جہانوں کو تلاش کر چکی ہے لیکن ہم ایک سے بڑھ کر ایک بحران میں پھنستے چلے جا رہے ہیں ۔ اس وقت حالات یہ ہیں کہ ملک میں بجلی ، پانی ، گیس آٹا کچھ بھی دستیاب نہیں مہنگائی کی تو بات کرنا ہی فضول ہے ۔ گذشتہ حکومت نے بڑی شان سے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پانچ سال پورے کرنے کا جشن منایا اور ملک کو بحرانوں سے باہر نکالنے کے لئے امریکہ پلٹ ماہر معیشت کو پاکستان کا وزیر اعظم بنوایا گیا ۔ مذکورہ ماہر معاشیات کے دور میں ہونی والی ترقی کے ثمرات آج عوام کے سامنے آرہے ہیں ملک میں اس وقت پندرہ پندرہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ کی جا رہی ہے ۔ سات سال کا دور حکومت صرف اور صرف بڑھکیں مارتے گزر گیا لیکن ملک میں کوئی بھی عوامی مسئلہ حل نہ ہو سکا ۔ عوام کو خوشحالی نصیب نہ ہوئی عوام وہی بار بار بڑھتی ہوئی مہنگائی ، ٹوٹی پھوٹی سڑکوں ،سیوریج کے پانی سے بھرے ہوئے گلی محلے ۔حکومت سات سال ٹھیکے پہ ٹھکہ دیتی رہی لیکن سڑکوں کی حالت کو تبدیل نہ کر سکی مہنگائی اور مسائل دو قسم کے ہوتے ہیں ایک عوامی مسائل اور دوسرے سیاسی مسائل ۔ جنرل پرویز مشرف صاحب کئی سال سے اور پانچ سال پورے کرنے والی کوہ قاف حکومت دونوں اقتدار کو بچانے میں لگے رہے اور عوامی مسائل شدت اختیار کرتے چلے گئے ۔ عوامی مسائل کے حل کے لئے آٹھ سال کی انتھک محنت کے بعد 18فروری کو سلیکشن کا پروگرام ترتیب دیا جا رہا ہے جس کے نتیجے میں بننے والی حکومت عوام کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کرے گی ۔ پاکستان اس وقت شدید ترین بجلی کے بحران کا شکار ہو چکا ہے 10سے 15گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ سے ملک کی چھوٹی اینڈسٹری تباہ ہو رہی ہے ۔
فیکٹریوں کی بندش سے ملازمین فارغ کئے جا رہے ہیں اور بے روز گاروں میں دن بے دن اضافہ ہو رہا ہے ۔ کسی بھی طاقت ور حکمران کے لئے آٹھ سال بہت زیادہ وقت ہے لیکن ان ن آٹھ سالوں میں بھی بجلی کے بحران پر قابو نہیں پایا جا سکا ۔ اس وقت بجلی کے ساتھ ساتھ گیس کی بھی قلت ہو رہی ہے اور کئی بڑے شہروں میں گیس کی لوڈ شیڈنگ بھی شروع ہو چکی ہے ۔ گیس اور بجلی کی کمی کے علاوہ پانی کی فراہمی کا مسئلہ بھی دن بدن ایک بڑے بحران کی صورت اختیار کر تا جا رہا ہے ایک رپورٹ کے مطابق اوگرا نے جو صارفین کے لئے قیمت 720روپے فی گھریلو سلنڈر اور 61روپے فی کلو پر مکمل اتفاق کیا لیکن دوسری طرف ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیز کو بھی اوگراکی طرف سے جاری کردہ قیمت 650روپے فی گھریلو سلنڈر ایکس پلانٹ پر پابند کیا جائے۔ چند مارکیٹنگ کمپنیز کے علاوہ تمام مارکیٹنگ کمپنیز 753سے950فی گھریلو سلنڈر ایکس پلانٹ ڈوک آئل فیلڈ ڈیرہ غازیخان اور چیچہ وطنی سے ڈسٹری بیوٹرز کو دے رہی ہیں جس کی وجہ سے لاہور کے گردونواح میں 85روپے فی کلو جبکہ مری، کاغان، تربت اور پشاور 120روپے فی کلو گیس فروخت ہو رہی ہے گیس پانی اور بجلی نہ ہونے کی وجہ گھریلو اخراجات میں اضافہ ہو رہاہے بجلی کی لوڈ شیڈنگ کے دوران موم بتییوں،اور ری چارج بیٹریز کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو چکا ہے جس کے باعث اضافی بوجھ عوام پر پڑھ رہا ہے اور گھروں میں گیس نہ ہونے کی وجہ سے عوام مہنگے داموں فی روٹی مارکیٹ سے 4سے 5روپے میں خریدنے پر مجبور ہیں گھریلو اخراجات میں بے تحاشااضافہ ہو رہا ہے ۔ اور تو اور ملک میں ایک بحران آٹے کا بھی موجود ہے زرعی ملک میں آٹا نایاب ہو چکا ہے ۔ بلیک مارکیٹ آٹے کی 100 کلو بوری کی ہول سیل قیمت میں 90 روپے کا اضافہ ہوگیا جبکہ چکیوں پر آٹے کی قیمت 22 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔صدر جنرل (ر) پرویز مشرف صاحب کا کہنا ہے آٹے کی سمگلنگ کو روکنے کے لئے قیمتوں میں اضافہ ضروری ہے اور عوام صبر شکر سے ایک اور آٹے کی کڑوی گولی کھا لیں ۔ شوکت عزیز جیسے قابل وزیر اعظم کی موجودگی میں ، بجلی سستی نہ ہو سکی ،گیس کے نرخ بھی کم نہ ہوئے ،ماہر معاشیات نے غریبوں سے ووٹ تو لیئے لیکن غریبوں کو مہنگائی سے چھٹکارا نہ دلا سکے ۔ عوام کو کسی ماہر معاشیات وزیر اعظم یا ڈکٹیٹر یا جمہوریت کے علمبردارسے کوئی سروکار نہیں ہے عوام صرف اور صرف ملک میں بڑھتی مہنگائی پر کنٹرول چاہتے ہیں ۔ تاکہ دنیا کی دیگر اقوام کی طرح وہ بھی پر سکون زندگی بسر کر سکیں ۔ موجودہ حالات میں زندگی کی گاڑی کا آگے لے جانا بہت مشکل ہو گیا ہے۔ کتنے افسوس کا مقام ہے کہ ایک زرعی ملک میں چینی ، آٹا ، دالیں ، سبزیاں غرض ہر چیز عوام کی قوت خرید سے باہر ہوتی جا رہی ہے ۔ لیکن حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی ۔ الیکشن کی تیاریوں میں مصروف حکومت کو غریب عوام کے دکھ درد کا احساس کب اور کیسے ہوگا ۔
تبصرہ / پیغام شامل کیجئے۔
| كی بورڈ منتخب كریں: |
بلاگز
:درجہ بندی کیجئے