آر ایس ایس   UrduPoint Blogs Feeds بلاگز   Comments RSS Feeds تبصرے

'دیس پردیس' کے بلاگ

بت شکن !

ذرا رکیے حضور اگر آپکا یہ خیال ہے کہ میں تاریخ کے اوراق پلٹنے لگا ہوں تو یہ بلاگ مت پڑہیے۔ مایوسی ہو گی۔ میں تو آنے والے کل کی بات کرنا چاہتا ہوں بلکہ آج ابھی اور اس وقت کی جب میں اپنے کمپیوٹر پر یہ تحریر لکھ رہا ہوں ۔۔۔

میری گردن اور سنہری پٹہ !!!

حضور ایک بات سے توآپ اتفاق کریں گے کہ آج کے دور میں چند خوشقسمت لوگ ہی اپنے موجودہ حالات، اپنے ماحول اور اپنے طرزِ زندگی سے خوش ہیں، چاہے دیس ہو یا بدیس، گورا ہو یا کالا۔۔۔

ہم وطنوں کی محرومیاں ۔۔۔

پچھلے چھ سالوں میں کوئی آٹھ دس مرتبہ ہانگ کانگ آنے کا اتفاق ہوا، پاکستانیوں کو اس ملک میں ہمیشہ ایک عجیب کشمکش میں مبتلا دیکھا۔ ایک طرف انتہائی اچھی نوکریاں کرنے والے ہم وطن، اور دوسری طرف کوڑے کے ڈھیروں سے پلاسٹک کی بوتلیں نکالنے والے ہم وطن۔۔۔

دوستو میں کنفیوز ہوں، بہت سخت کنفیوز۔ ارے میں نے بڑی محنت سے، بڑی لگن سے اپنے آپ کو اس دنیا میں پوزیشن(position) کیا تھا۔ ہم کون ہیں؟ ہم کیا ہیں؟ وہ کون ہیں؟

امریکہ کی جانب! ۔۔ (دوسری قسط)

روشن خیالی اور اعتدال پسندی تو ہر جگہ پھیل چکی ہے۔ اس نے پاکستان کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ جب کسی روشن خیال حکمران کی سرپرستی ہو توایسی لہریں قوموں کو اپنی لپیٹ میں لے لے ہی لیا کرتی ہیں۔ یہاں بھی قدامت پسند اورروشن خیال لوگوں کی آویزش ہے اور وہاں بھی حق وباطل کی آویزش جاری ہے۔

دبئی میں آخری دن۔۔۔

صبح دس بجے ہم ہوٹل سے نکلے۔آج ہمارا دوبئی کی تاریخی عمارات دیکھنے کا پروگرام تھا۔ہم ابراہ پہنچے وہاں سے کشتی میں بیٹھ کر مینا بازار والی سائڈ پر اترے۔ابراہ وہ جگہ ہے جہاں سے کشتی پر بیٹھ کر سمندر کے آر پار جاتے ہیں۔ابراہ کے ساتھ ہی مختصر سی تاریخی عمارات ہیں۔جو ہم نے جلد ہی دیکھ لیں

امریکہ کی جانب

ایک طویل لمبے اور تھکا دینے والے والے ہوائی سفر کے بعدجب ہم(میں اور میرا بیٹا) ہیوسٹن ائیرپورٹ پراترے۔عجیب سی دنیا محسوس ہوئی جوسنی توتھی لیکن دیکھی کبھی نہ تھی۔ انسانوں کی شکلیں غیر مانوس محسوس ہوئیں ان کی زبان اجنبی پھر لباس غیر شرعی محسوس ہوا۔ ہم نے سر کوجھٹکا دیا یہ امریکہ ہے… پاکستان نہیں۔

دبئی میں پہلا دن !

سٹی سینٹر باہر سے ایک عام بلڈنگ کی طرح ہے ، پر جیسے ہی ہم مین گیٹ سے اندر داخل ہوئے تو ایسا لگا جیسے کہ سارا” لکشمی چوک “ایک ہی سینٹر میں آ گیا ہو ، وہاں تو ایک علیحدہ ہی دنیا آباد تھی

زمانہ خراب ہے۔۔۔

ہر شریف آدمی کی طرح یہ میرا پہلا بلاگ ہے (لیکن آخری ہرگز نہیں)۔ اب یہ کتنے دن چلے گا، اسکا فیصلہ تو وقت کرے گا یا پھر آپ۔ حکومت ِ پاکستان البتہ فی ا لحال بے بس ہے کیونکہ یہاں جرمنی میں صحافی ”غائب “ نہیں ہوتے۔

ہم دبئی جا پہنچے !

ائرپورٹ پر کافی رش ہونے کے باجود بالکل بھی تاخیر نہیں ہوئی۔ اُن کا انتظام بے حد زبردست تھا ، 8فلائٹیں آنے کی صورت میں بھی ہم لوگوں کو انتظار نہیں کرناپڑا ، مگر عربی اور عربن جو کاؤنٹر پر بٹھائے گئے تھے وہ بے حد ڈراؤنے تھے۔۔۔

- Next »


Warning: include() [function.include]: URL file-access is disabled in the server configuration in /home/blogsup/public_html/wp-content/themes/urdupoint/footer.php on line 2

Warning: include(http://www.urdupoint.com/poetry/footer.shtml) [function.include]: failed to open stream: no suitable wrapper could be found in /home/blogsup/public_html/wp-content/themes/urdupoint/footer.php on line 2

Warning: include() [function.include]: Failed opening 'http://www.urdupoint.com/poetry/footer.shtml' for inclusion (include_path='.:/usr/lib/php:/usr/local/lib/php') in /home/blogsup/public_html/wp-content/themes/urdupoint/footer.php on line 2