آر ایس ایس   UrduPoint Blogs Feeds بلاگز   Comments RSS Feeds تبصرے

'سماجی مسائل' کے بلاگ

بحرانوں کا گرداب ۔۔۔

ہماری قوم کو اس وقت مختلف قسم کی نت نئی آزمائشوں کا سامنا ہے ایک کے بعد ایک بحران آتا چلا جا رہا ہے قیامت کی نشانیاں آج کے دور میں دیکھی جا سکتی ہیں ، دنیا چاند پر جانے کے بعد اور آگے کے جہانوں کو تلاش کر چکی ہے۔۔۔

ایمرجنسی اور نوجوان ۔۔۔

نفسانفسی کے اس عالم میں ایسے نوجوانوں کو ڈھونڈنا بہت مشکل ہو چکا ہے جو اپنے بنائے ہوئے حصار سے باہر نکل کر اس ملک و قوم کیلئے کچھ سوچتے ہوں، خوصاََ ایمرجنسی کے نفاذ کے بعد سب ڈر گئے ہیں، سہم گئے ہیں، سب کو گرفتاری اور پولیس کے وحشیانہ تشدد کا خوف ہے۔ اخبارات میں تصاویر دیکھ کر عجیب سا لگتا ہے کہ جانے حکومت کیا چاہتی ہے ؟

آئینہ تصویر ۔۔۔

ہمارا معاشرہ خواہ کتنا ہی ترقی کیوں نہ کر لے ،ہم خود کو کتناہی ا عتدال پسند اور روشن خیال کہلوانا کیوں نہ شروع کردیں لیکن یہ اٹل حقیقت ہے ہمارے ہاں کبھی بھی عورت کو وہ مقام اور بنیادی حقوق نہیں مل سکتے جو اسلام نے متعین کررکھے ہیں۔۔۔

میرا جرم کیا ہے ؟

کسی نے یہ سچ ہی کہا ہے کہ انسان ایک بار دھوکہ کھانے کے بعد ہی سنبھلتاہے اور کچھ نقصان اٹھانے کے بعد ہی آپ کو دنیا کا اصل روپ دیکھنے کے ملتا ہے ۔آجکل کے دور میں کسی کے ساتھ بھلائی کرنا اپنے ساتھ دھوکہ کرنے کے مترادف ہے دنیا کے دستور اتنہائی نرالے ہیں

کہتے ہیں کہ انسان سوچتا کچھ ہے اور ہوتا کچھ ہے ؟میرے لیے یہ کہاوت چندروز قبل تک محض ایک کہاوت ہی کی حیثیت رکھتی تھی لیکن آج میں اس کہاوت کی حقیقت کو بھی تسلیم کرچکا ہوں۔انسان جب جوانی کے عالم میں ہوتا ہے تو اس کا اپنا کیا ہوا ہر فیصلہ اسے درست محسوس ہوتا ہے۔۔۔

روشن خیالی کی معراج

قیامت بیتے کئی دن گزرگئے مگر حکومت کی جانب سے قوم کے ساتھ مذاق کرنے کے علاوہ کوئی سنجیدہ کوشش اس کے علاوہ کچھ نظرنہیں آئی کہ اسلام آباد کے ایک سیکٹرمیں ”جشن فتح“کے روز ایک ڈانس کلب جس میں ”مئے خانے“کی سہولت بھی دستیاب ہے کا افتتاح اتنی دھوم دھام سے ہوا۔۔۔۔

سب اچھا ہے ؟؟

بعض اوقات ہم اپنے بزرگوں کی نصیحتوں پر کان نہیں دھرتے اور کچھ باتوں کو انکا وہم سمجھ کر جھٹک دیتے ہیں۔ صبح گھر پر گاڑی موجود نہ ہونے کی وجہ سے دفتر جانے کے لیے ٹیکسی لینے جب گھر سے باہر نکلنے لگی تو نانا ا بو کی نصیحت ، ” بیٹا اپنا پرس وغیرہ دھیان سے رکھا کرو۔۔۔

”استاد جی ڈبل اے“

لاہور میں دھول اڑاتی‘ریسیس لگاتی ‘لوگ پر موت بن کر منڈلاتی پبلک ٹرانسپورٹ میں سفرکریں تو ایک جملہ ہرسٹاپ کے بعد سننے کو ملتا ہے”استادجی ڈبل اے“ہرسٹاپ کے بعد کنڈیکٹرزوردارانداز میں بس یا ویگن کو ہاتھ مارکر”ڈبل اے“کا نعرہ مستانہ لگاتا ہے

خواہشیں اتنی بڑھیں کہ۔۔۔

خواہشات خواہ دولت کی ہوں یا نفس کی ان کو جتنا بڑھایا جائے بڑھتی ہی چلی جاتی ہیں۔ لیکن اگر ہم نفسانی خواہشات کوپوراکرنے کے لئے اپنی معاشرتی اقدار۔ تہذیب اور اسلامی فرمودات کو پس پشت ڈال دیں تو اس سے بڑی ہم مسلمانوں کی بدنصیبی کوئی نہیں…

عید آئی ہے بابا !!!

مدتوں بعد آنکھیں بے و فا ہوئیں —-چار اآنسو تو ان بدنصیبوں کا حق ہیں——شام ڈھل چکی تھی—-بوڑھے سال کا آخری سورج ظلمتوں میں گم ہوچکا تھا–مال روڑ سے گزرتی چیختی چنگاڑتی گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں فضاء میں تلاطم پیدا کررہی تھیں–

- Next »


Warning: include() [function.include]: URL file-access is disabled in the server configuration in /home/blogsup/public_html/wp-content/themes/urdupoint/footer.php on line 2

Warning: include(http://www.urdupoint.com/poetry/footer.shtml) [function.include]: failed to open stream: no suitable wrapper could be found in /home/blogsup/public_html/wp-content/themes/urdupoint/footer.php on line 2

Warning: include() [function.include]: Failed opening 'http://www.urdupoint.com/poetry/footer.shtml' for inclusion (include_path='.:/usr/lib/php:/usr/local/lib/php') in /home/blogsup/public_html/wp-content/themes/urdupoint/footer.php on line 2