آر ایس ایس   UrduPoint Blogs Feeds بلاگز   Comments RSS Feeds تبصرے

'متفرق' کے بلاگ

کون ذمہ دار ہے؟؟

پاکستان آجکل انتہائی مشکلات سے دوچارہے مگر یہ ثابت نہیں ہورہا کہ ان تمام مسائل کا “ذمہ دار کون ہے“ ۔کچھ لوگ کرسی بچانے کے چکروں میں پڑے ہوئے ہیں تو کچھ کرسی کے حصول کیلئے ایک دوسرے پر کیچڑ اچھال رہے ہیں ۔جبکہ دوسری جانب ملک میں آٹے، بجلی اورگیس کا شدید بحران ہے ، لوگ فاقہ کشی پر مجبور ہوچکے ہیں

لوگ کہتے ہیں کہ پاکستان اپنی تاریخ کے بد ترین دو سے گزر رہا ہے، بجا ۔۔۔ پاکستان ہی کیا، پاکستان میں موجود ہر ادارہ اپنے تاریخ کے سیاہ ترین دن دیکھ رہا ہے۔ جس شان سے آج شاہراہ ِ دستور پر پولیس نے اپنی ”عظمت “ کا ڈرامہ رچایا ہے اس نے تمام تر دساطیر ، رواجوں اور روایتوں کے ساتھ ساتھ حکومت کی عطاکردہ ”آزادی ِ صحافت“ کی دھجیاں اڑا دی ہیں۔۔۔

ہتھیار بند صحافی ۔۔۔

ا اللہ یہ کیسا وقت آگیا ہے کہ ملک کس طرف جا رہا ہے آج صحافت بھی پاکستان میں موجود ایک ڈکٹیٹر کے زیر عتاب ہے جن پر آئے دن ریاستی تشدد معمولی سے بات بنتی جا رہی ہے 2007پاکستان میں صحافیوں کے لئے کوئی اچھا ثابت نہیں ہوا صدر مشرف کے دور حکومت میں 21صحافی قتل ہوئے ۔۔۔

صدر مشرف اسوقت انتہائی مشکل اور بدترین صورتحال میں مبتلا ہیں۔ دن بدن بڑھتی ہوئی مشکلات اور مسائل نے صدر مشرف کی Frustrationبڑھا دی ہے، اقتدارکے بھوکے مشرف نے اسوقت ہر طرف سے ہاتھ پیر مارنا شروع کر دئیے ہیں، کبھی کسی سے ڈیل، تو کبھی کسی سے مذاکرات، کل کے چور آج مشرف کے چہیتے بن چکے ہیں۔۔۔۔

میڈیا وار

مدتوں حقیقت نگاری اور انسانی زندگی کے اصل روپ کو کہانیوں، افسانوں، کہاوتوں اور ناولوں میں بیان کرنے کی رسم جاری رہی۔ ہر معاشرے نے اپنے مصلح اور نامور ادیب پیدا کیے جو ایک طویل مدت تک ایسے کردار تخلیق کرتے رہے جو انسانی زندگی سے قریب تھے

سترہ جولائی 2007ء ۔۔۔

بعض اوقات قسمت آپ کو کھینچ کر وہاں لے جاتی ہے جدھر کا آپ نے سوچا تک نہیں ہوتا ۔۔۔کہ اسی کا نام زندگی ہے ۔ انسان بے شک آنے والے پل سے بالکل بے خبر ہے۔ کچھ ایسا ہی میرے ساتھ بھی ہوا۔ سترہ جولائی کی رات آٹھ بجے تک میں یہ نہ جانتی تھی کہ اب سے کچھ دیر بعد میری قسمت مجھے کہاں لے جا رہی ہے۔۔۔

مشرف بمقابلہ غازی ۔۔۔

مجھے غازی عبدالرشید سے کوئی خاص ہمدردی نہیں تھی، کبھی بھی نہیں!۔ ہمیشہ جب بھی بات ہوئی، ملاقات ہوئی تو ایسے ہی محسوس ہوا کہ یہ مولوی بیان کچھ دیتا ہے، اور اصل زندگی میں بالکل مختلف ہے۔ باتیں خودکش حملے کرنے کی کرتا ہے، لیکن لگتانہیں کہ کبھی کسی کو خودکش حملہ کرنے کا درس بھی دے سکتا ہے۔۔۔

آپریشن سائلنس یا خانہ جنگی ؟

گذشتہ روز ایک ضروری کام سے آب پارہ کے قریب واقع ہوٹل جانا تھا۔ میں غلطی سے وہاں داخل ہو گئی۔ معلوم ہوا کہ ہر سڑک پر پولیس کی ایک بھاری نفری بیریرز لگائے مستعد کھڑی ہے۔ جس سڑک سے ہوٹل کی طرف جانے والی سڑک پر مڑو، وہیں وہ آپ کو مژدہ سناتے ہیں کہ اس سڑک سے آپ آگے نہیں جا سکتے۔۔۔

مردوں کی سرزمین

قبحہ خانوں کے سرپرستوں کو مبارک اسلام آباد پاک ‘فرشتوں سی معصومیت والے سیاہ آنچلوں سے پاک کردیا گیا ہے‘سولہ کروڑوں مردوں کو مبارک ہو کہ ان کے سروں سے ”انتہا پسندی“کے خطرے کو ٹال دیا گیا ہے‘مگر مجھ جیسے پاگل نجانے کیوں سوگ کی کیفیت میں ہیں ۔۔۔۔

شکوہ کریں تو کس سے ؟

دنیامیں سچ کا گلہ گھونٹنے کے لیے ہمیشہ سے اہل قلم کو نشانہ بنایاجاتارہا ہے‘یہ رسم کوئی نئی نہیں‘ عربی کے مشہور فلسفی خلیل جبران کی زبان بندی کے لیے اسے مظالم کا نشانہ بنایا گیا حتکہ کہ اسے جلاوطنی پر مجبورکردیا گیا ۔۔۔

- Next »


Warning: include() [function.include]: URL file-access is disabled in the server configuration in /home/blogsup/public_html/wp-content/themes/urdupoint/footer.php on line 2

Warning: include(http://www.urdupoint.com/poetry/footer.shtml) [function.include]: failed to open stream: no suitable wrapper could be found in /home/blogsup/public_html/wp-content/themes/urdupoint/footer.php on line 2

Warning: include() [function.include]: Failed opening 'http://www.urdupoint.com/poetry/footer.shtml' for inclusion (include_path='.:/usr/lib/php:/usr/local/lib/php') in /home/blogsup/public_html/wp-content/themes/urdupoint/footer.php on line 2