آر ایس ایس   UrduPoint Blogs Feeds بلاگز   Comments RSS Feeds تبصرے

اُردو پوائنٹ بلاگز پر خوش آمدید
اُردو پوائنٹ بلاگز، اب نستعلیق اُردو فونٹ کے ساتھ۔۔۔ اب اُردو پوائنٹ کے تمام سیکشن بشمول بلاگز خوبصورت اُردو فونٹ میں پیش خدمت ہیں، ہمیں اُمید ہے کہ آپ اس تبدیلی کو ضرور پسند فرمائیں گے، اور اپنی آراء سے ہمیں آگاہ رکھیں گے۔ (نستعلیق فونٹ صرف Internet Explorerاستعمال کنندگان دیکھ سکتے ہیں)
 

جنگل میں ہاتھی کا قتل ہوگیا ‘چوہا پورے جنگل میں اکڑتا پھر رہا تھا کسی نے وجہ پوچھی تو سینہ پھلا کر بولا مجھ پر بھی شک کیا جارہا ہے ‘اپنے ”نکے“مردمومن مردحق”فاتح لال مسجد“ اعجازالحق کی بھی حالت کچھ ایسی ہی ہے فرماتے ہیں۔۔۔۔

میڈیا وار

مدتوں حقیقت نگاری اور انسانی زندگی کے اصل روپ کو کہانیوں، افسانوں، کہاوتوں اور ناولوں میں بیان کرنے کی رسم جاری رہی۔ ہر معاشرے نے اپنے مصلح اور نامور ادیب پیدا کیے جو ایک طویل مدت تک ایسے کردار تخلیق کرتے رہے جو انسانی زندگی سے قریب تھے

کسی نے یہ سچ ہی کہا ہے کہ انسان ایک بار دھوکہ کھانے کے بعد ہی سنبھلتاہے اور کچھ نقصان اٹھانے کے بعد ہی آپ کو دنیا کا اصل روپ دیکھنے کے ملتا ہے ۔آجکل کے دور میں کسی کے ساتھ بھلائی کرنا اپنے ساتھ دھوکہ کرنے کے مترادف ہے دنیا کے دستور اتنہائی نرالے ہیں

کہتے ہیں کہ انسان سوچتا کچھ ہے اور ہوتا کچھ ہے ؟میرے لیے یہ کہاوت چندروز قبل تک محض ایک کہاوت ہی کی حیثیت رکھتی تھی لیکن آج میں اس کہاوت کی حقیقت کو بھی تسلیم کرچکا ہوں۔انسان جب جوانی کے عالم میں ہوتا ہے تو اس کا اپنا کیا ہوا ہر فیصلہ اسے درست محسوس ہوتا ہے۔۔۔

بعض اوقات قسمت آپ کو کھینچ کر وہاں لے جاتی ہے جدھر کا آپ نے سوچا تک نہیں ہوتا ۔۔۔کہ اسی کا نام زندگی ہے ۔ انسان بے شک آنے والے پل سے بالکل بے خبر ہے۔ کچھ ایسا ہی میرے ساتھ بھی ہوا۔ سترہ جولائی کی رات آٹھ بجے تک میں یہ نہ جانتی تھی کہ اب سے کچھ دیر بعد میری قسمت مجھے کہاں لے جا رہی ہے۔۔۔

قیامت بیتے کئی دن گزرگئے مگر حکومت کی جانب سے قوم کے ساتھ مذاق کرنے کے علاوہ کوئی سنجیدہ کوشش اس کے علاوہ کچھ نظرنہیں آئی کہ اسلام آباد کے ایک سیکٹرمیں ”جشن فتح“کے روز ایک ڈانس کلب جس میں ”مئے خانے“کی سہولت بھی دستیاب ہے کا افتتاح اتنی دھوم دھام سے ہوا۔۔۔۔

مجھے غازی عبدالرشید سے کوئی خاص ہمدردی نہیں تھی، کبھی بھی نہیں!۔ ہمیشہ جب بھی بات ہوئی، ملاقات ہوئی تو ایسے ہی محسوس ہوا کہ یہ مولوی بیان کچھ دیتا ہے، اور اصل زندگی میں بالکل مختلف ہے۔ باتیں خودکش حملے کرنے کی کرتا ہے، لیکن لگتانہیں کہ کبھی کسی کو خودکش حملہ کرنے کا درس بھی دے سکتا ہے۔۔۔

گذشتہ روز ایک ضروری کام سے آب پارہ کے قریب واقع ہوٹل جانا تھا۔ میں غلطی سے وہاں داخل ہو گئی۔ معلوم ہوا کہ ہر سڑک پر پولیس کی ایک بھاری نفری بیریرز لگائے مستعد کھڑی ہے۔ جس سڑک سے ہوٹل کی طرف جانے والی سڑک پر مڑو، وہیں وہ آپ کو مژدہ سناتے ہیں کہ اس سڑک سے آپ آگے نہیں جا سکتے۔۔۔

قبحہ خانوں کے سرپرستوں کو مبارک اسلام آباد پاک ‘فرشتوں سی معصومیت والے سیاہ آنچلوں سے پاک کردیا گیا ہے‘سولہ کروڑوں مردوں کو مبارک ہو کہ ان کے سروں سے ”انتہا پسندی“کے خطرے کو ٹال دیا گیا ہے‘مگر مجھ جیسے پاگل نجانے کیوں سوگ کی کیفیت میں ہیں ۔۔۔۔

دنیامیں سچ کا گلہ گھونٹنے کے لیے ہمیشہ سے اہل قلم کو نشانہ بنایاجاتارہا ہے‘یہ رسم کوئی نئی نہیں‘ عربی کے مشہور فلسفی خلیل جبران کی زبان بندی کے لیے اسے مظالم کا نشانہ بنایا گیا حتکہ کہ اسے جلاوطنی پر مجبورکردیا گیا ۔۔۔

« پیچھے - آگے »


Warning: include() [function.include]: URL file-access is disabled in the server configuration in /home/blogsup/public_html/wp-content/themes/urdupoint/footer.php on line 2

Warning: include(http://www.urdupoint.com/poetry/footer.shtml) [function.include]: failed to open stream: no suitable wrapper could be found in /home/blogsup/public_html/wp-content/themes/urdupoint/footer.php on line 2

Warning: include() [function.include]: Failed opening 'http://www.urdupoint.com/poetry/footer.shtml' for inclusion (include_path='.:/usr/lib/php:/usr/local/lib/php') in /home/blogsup/public_html/wp-content/themes/urdupoint/footer.php on line 2